سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 60 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 60

۶۰ حضور نے جب قرآن نکال کر بعض آیات پیش کیں تو کہہ اُٹھا کہ قرآن ہاتھ میں لے کر بات کر دینے سے بھی کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟ کوئی تفسیر ہو ( غالباً معالم التنزیل کا نام لیا تھا ) جب اس نے تفسیر کا نام لیا تو حضرت صاحب نے اس کو بہت جھنجھوڑا اور فرمایا کہ تم لوگ اس علم پر گھمنڈ رکھتے ہو اور اتنے بڑے دعوے کرتے ہو کہ تم عرب اور اہلِ زبان ہو تفاسیر کیا حقیقت رکھتی ہیں۔کیا ہم قرآن سمجھنے کے لئے ان تفاسیر کے محتاج ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔خوب ہی لیا تو اس کو اپنی فصاحت بھی بھول گئی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کر کے بولا شف یہ کیا کہتے ہیں۔ایسی بے چارگی اور حیرت سے اس نے شف کا لفظ بولا کہ اس پر رحم آتا تھا۔آخر بالکل ٹھنڈا ہو گیا۔سر سے پگڑی تین مرتبہ اس نے اُتاری اور پسینہ سکھانے کی کوشش کی۔یہ دیکھ کر میں نے تولیہ سے پنکھا بنا کر ٹھنڈا کیا تب جا کر ہوش آیا۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں میں زبان کی غلطیاں ہیں۔اس کا بھی جواب حضور نے خوب دیا اور فرمایا کہ تم میں اگر کچھ طاقت ہے تو اب بھی ان اغلاط کا اعلان کر دو یا ان کتب کا جواب لکھ کر شائع کر دو مگر یا درکھو کہ تم ہر گز نہ کر سکو گے اگر قلم اُٹھاؤ گے تو تمہاری طاقتِ تحریر سلب کر لی جاوے گی۔تجربہ کر کے دیکھ لو وغیرہ وغیرہ۔ان باتوں پر اب اس نے منت سماجت شروع کی کہ آپ ان دعووں کو عرب، مصر اور شام میں نہ پھیلائیں اس سے اختلاف بڑھتا ہے اور اختلاف اس وقت ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہے۔وہابیوں نے پہلے ہی سخت صدمہ پہنچایا ہے۔بلا د یورپ، امریکہ اور افریقہ کے کفار اور نصاریٰ میں تبلیغ کریں۔مبشر بھیجیں۔یہاں ہرگز ان عقائد کا نام نہ لیں خدا کے واسطے اَنَا اَرْجُو کم یا سیدی کبھی بوسہ دے کر کبھی ہاتھوں کو لپیٹ کر غرض ہر رنگ میں بار بار منت کرتا تھا کہ خدا کے واسطے ان علاقہ جات میں سیدنا احمد رسول الله کی تعلیمات کا اعلان نہ کریں اور نہ مبشر بھیجیں وغیرہ وغیرہ۔ہم جانتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی تھے۔اسلام کے لئے غیور تھے مگر ان کی نبوت اور رسالت کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے صرف لا اله الا الله پر لوگوں کو جمع کریں۔حضرت نے ان باتوں کا جواب بلند آواز اور پر شوکت لہجہ میں دیا کہ اگر یہ منصوبہ ہمارا ہوتا تو ہم چھوڑ دیتے مگر یہ خدا کا حکم ہے اس میں ہمارا اور سیدنـا احـمـد رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں۔خدا کا یہ حکم ہے ہم پہنچائیں گے اور ضرور پہنچائیں گے۔لَنْ نَبْرَحَ الْأَرْضَ کا قول ہمارا بھی