سفر یورپ 1924ء — Page 480
۴۸۰ لے کر اس عمر تک اتنے معجزات اور نشانات دیکھے ہیں جن کو گن بھی نہیں سکتا۔موت اگر مجھے اب آ جائے تو میں خوش اور تیار ہوں۔مجھے اب کوئی خواہش باقی نہیں۔خواہش ہے تو صرف یہ کہ کسی طرح حضرت مسیح موعود کے قدموں میں ایک چپ بھی جگہ نصیب ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔ان تقریروں کے بعد حضرت اقدس نے دعائیں کیں اور ہوٹل سے نکل کر فرمایا میں کچھ پیدل چلنا چاہتا ہوں۔چنانچہ حضور سمندر کے کنارے کنارے تین چار میل تک دوستوں سمیت پیدل گئے اور واپسی پر گھوڑا گاڑیوں کے ذریعہ سے مکان پر واپس تشریف لائے۔ڈاک قادیان حضور کی خدمت میں جہاز پر پیش ہوئی مکان پر بھی ملی - اخبار الفضل کے پرچے بھی آئے۔نماز میں حضور نے پہلے پڑھائیں اور کھانا بعد میں ہوا۔۱۹/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز حضرت اقدس نے خود پڑھائی۔نماز کے بعد حضور تشریف فرما ہو گئے اور دربار لگ گیا۔پہلے جماعت احمد یہ پشاور کا خوبصورت ایڈریس پیش ہوا اور پھر جماعت احمدیہ کلکتہ کی طرف سے ایک ایڈریس چوہدری نواب دین صاحب نے پڑھا اور حضور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ دوران قیام انگلستان میں جن چند باتوں سے مجھے نہایت خوشی ہوئی اور جو ایک وقت کے لئے اس تکلیف اور اس احساس ذمہ داری کو کم کرنے والی ہوئی ہیں ان میں ایک امر کلکتہ کی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ہر چیز کا وقت پر ہی اندازہ ہوسکتا ہے وقت سے پہلے نہیں ہو سکتا۔میں نے جو کتاب لکھی ہے اس کی اہمیت کا اندازہ میں ہی کر سکتا ہوں کہ کن حالات میں وہ لکھی گئی اور کیسے مشکلات سے گزرتی ہوئی وہ شائع ہوئی۔اس کتاب کی حیثیت عام کتب سے زیادہ اہم ہے۔سخت اور شدید گرمیوں میں جب کہ لوگ دن کو بھی کام نہ کر سکتے تھے اور گھبرا جاتے تھے اس موسم میں رات کے بعض دفعہ دو دو بج جایا کرتے تھے اور میری گردن میں دس دس ہیں ہیں پتنگے چڑھے ہوتے تھے کیونکہ لیمپ کی روشنی میں کام کرنا ہوتا تھا اور بعض اوقات اتنی کوفت ہو جاتی کہ کام کرتے کرتے تھکان کی وجہ سے چار پائی پر جانا بھی مشکل ہو جایا کرتا تھا فرش پر ہی لیٹ جاتا تھا۔اس محنت اور ان حالات کی وجہ سے خواہش تھی اور دل چاہتا تھا کہ وہ کتاب وقت پر چھپے بھی اور ہمیں وہاں پہنچ بھی جائے کیونکہ مصنف کو اپنی تصنیف کہتے ہیں کہ بچے کی طرح پیاری ہوا کرتی ہے۔جس وقت وہ کتاب وہاں پہنچی اس وجہ سے زیادہ خوشی تھی۔جن لوگوں کے ہاتھوں سے وہ کام ہوا