سفر یورپ 1924ء — Page 481
۴۸۱ ہے اس وجہ سے میں نے خاص دعائیں کی ہیں جن کا مجھے یقین ہے کہ ضرور قبول ہوئیں۔القصہ نہایت ہی مشکل اور حیرت انگیز حالات میں کتاب لکھی گئی تھی اور اسی وجہ سے وقت جا نا زیادہ خوشی کا موجب ہوا۔وہ کتاب محض نصرت و تائید الہی کے ماتحت لکھی گئی ہے۔پہلے خیال تھا کہ وہ غلط راہ پر جارہی ہے مگر ایک سو صفحات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ٹھیک راہ ہے اور اب تو اگر دس ہزار صفحات بھی مجھے لکھنے پڑیں تو انشاء اللہ تعالیٰ قلم برداشتہ لکھ سکتا ہوں کیونکہ داغ بیل اس کی اور بنیاد صحیح اور درست و مضبوط اصول پر قائم ہو چکی ہے۔وہ کتاب انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی ترقی کے ساتھ خاص تعلق رکھتی ہے۔جن جذبات کا اظہار جماعت کلکتہ نے کیا ہے ان سے بھی زیادہ گہرے اور محبت بھرے جذبات سے جماعت کلکتہ کی اس خدمت کو دیکھتا ہوں اور اس کے لئے دل سے دعا کرتا ہوں۔صحت اب اچھی ہے۔فربہی بھی معلوم ہوتی ہے۔عرصہ جہاز سے گو پہلے بہت ہی کمزور ہو گیا تھا مگر پھر بھی با وجود اس عو د صحت کے جسم کھو کھلا ہو چکا ہوا معلوم ہوتا ہے۔میری صحت کی موجودہ حالت اس قابل ہے کہ لمبا آرام لے مگر ذمہ داریاں اور کام محنت چاہتے ہیں۔جماعت میں جلدی ضرورت ہے کہ کام کے سنبھالنے والے لوگ پیدا ہو جائیں اور ایسے آدمی موجود ہو جائیں کہ ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا تیار ہو جو کام کو جاری رکھ سکیں۔زندہ صرف خدا ہے اور ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی صرف وہی ایک ذات ہے۔وہ خود دنیا میں نہ آیا نہ آئے گا۔دین کے کام ہمیشہ انسانوں ہی کے ذریعہ سے کراتا آیا ہے۔کسی جماعت کی ترقی اور کامیابی کا راز اس کے آدمیوں کی پیدائش پر منحصر ہے۔اگر اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اس کے کاموں کی باگوں کو اپنے ہاتھ میں لے اور سنبھال سکیں مقامی و انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی تو یہ اس قوم کی زندگی و حیات اور ترقی کے آثار ہوں گے۔کلکم راع وكلكم مسئول عن رعيته تمہارے مرد عورت اور بچے بھی راع ہیں۔پس اس بات کا خیال رکھو بلکہ اپنی اپنی جگہ جائزہ لیا کرو کہ تم میں قحط الرجال نہ ہو۔ایسے وقت میں جب کہ میں دیکھتا ہوں کہ در حقیقت میری صحت کو زیادہ نقصان پہنچا ہے مگر میری خواہش پہلے سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی اور میری آرزوئیں پہلے سے زیادہ تیز ہیں تو میں ایسی حالت میں اگر