سفر یورپ 1924ء — Page 479
پہنچتے ہی ہم میں سے جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، چوہدری محمد شریف صاحب اور چوہدری فتح محمد خان صاحب تینوں بزرگ کنارہ سمندر ہی سے سٹیشن کو چلے گئے جیسا کہ پہلے تجویز کیا گیا تھا اور کل کے خط میں عرض کر چکا ہوں۔خان صاحب کو جہاز سے اترتے ہی یوں فراغت ہوگئی کہ انہیں یہ اطلاع مل گئی کہ ان کی والدہ محترمہ اس جہان فانی سے کوچ کرگئی ہیں۔فانا لله و انا اليه راجعون لہذا اب خان صاحب دہلی کو روانہ ہونے کی بجائے حضرت اقدس کے ہمرکاب ہی ٹھہر گئے ہیں۔حضور مع دوستوں کے نواب سید محمد رضوی صاحب کی کوٹھی پر جہاں قیام کا انتظام کیا گیا تھا تشریف لائے اور ہم لوگ کسٹم کے جھگڑے میں لگے رہے اور بمشکل کہیں تین بجے جا کر ایک صاحب کی مددا اور مہربانی سے فارغ ہو کر مکان پر پہنچے۔شام کے ۵ بجے واٹسن ہوٹل میں مکرم جناب شیخ نیاز محمد صاحب سب انسپکٹر پولیس حیدر آباد سندھ نے حضور کو دعوتِ چائے دی۔حضور تمام خدام سمیت تشریف لے گئے۔چائے پی اور چائے کے بعد مہمان نواز صاحب نے مختصر الفاظ میں بزبان انگریزی اللہ تعالیٰ کا اور حضور کا شکر یہ ادا کیا۔جس کا جواب حضور نے انگریزی زبان میں دیا جو نہایت لطیف نہایت دلچسپ اور معنی خیز تھا وہ الگ عرض کرتا ہوں۔حضور کی انگریزی تقریر کے بعد حضرت مفتی صاحب نے بھی مختصر سی تقریر کی اور کہا کہ حضرت سے مل کر سب سے پہلے میں نے جو بات دیکھی اور جس نے مجھے بہت لطف دیا اور مجھ پر خاص اثر کیا وہ یہ تھی کہ میں نے حضور کو انگریزی زبان میں نہایت روانگی اور سلاست سے گفتگو کرتے سنا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود سے سنا ہوا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ انگریزی زبان کے سیکھنے کی کیا مشکل ہے صرف ایک رات کی دعا سے یہ کام ہوسکتا ہے۔چنانچہ حضور کی اس خواہش کو میں نے اس وقت سید نا محمود کی ذات میں پورا ہوتے دیکھ بھی لیا ہے جو حسن واحسان میں خدا کے پیارے مسیح کا نظیر ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ حضور نے اس سفر سے پہلے کبھی شاید ایک فقرہ بھی انگریزی زبان میں نہ بولا ہوگا۔مگر آج میں دیکھتا ہوں کہ ایک فصیح اور بلیغ کلام حضور کی زبان مبارک سے بے ساختہ نہایت صفائی روانگی اور سلاست سے نکلتا آ رہا ہے۔یہ ایک معجزانہ کلام ہے جو خارق عادت طور پر حضور کو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے اور یہ بھی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک بین نشان ہے۔فرمایا میں نے خدا کے فضل سے ابتدا سے