سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 470 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 470

۴۷۰ انشاء اللہ تعالیٰ قادیان تار دے دیں گے ، پھر فرمایا کہ اپنی طرف سے سارے ساتھیوں کی طرف سے اور ساری جماعت کو۔کسی دوست نے تار کا مضمون پوچھا تو فرمایا کہ جب تار دیں گے تو پتہ بھی لگ جائے گا۔خان صاحب کی والدہ بیمار ہیں۔دہلی میں ان کو اجازت دیدی ہے کہ وہ بمبئی سے اترتے ہی ۱۸/ نومبر ہی کو ۳ بجے کی بمبئی میں سے دہلی چلے جائیں اور والدہ کی خدمت و عیادت کریں۔پھر جب حضور دہلی سے روانہ ہوں تو وہ بھی قافلہ کے ساتھ شامل ہو جائیں۔چوہدری فتح محمد خان صاحب کو بھی پہلے آگرہ بھیج دینے کی تجویز ہے تا کہ وہاں جا کر انتظام کریں اور مبلغین اور احمدی وغیرہ احمدی دوستوں کو اطلاع کر دیں اور کہ ساندھن جانے کے واسطے بھی کوئی انتظام کریں۔وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ۱۸ء کو اُترتے ہی خان صاحب کے ساتھ چلے جائیں گے جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اجازت لے لی ہے۔چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے نے بھی اجازت لے لی ہے چنانچہ یہ چار اصحاب ہمارے ہم سفروں میں سے ۱۸ ء کو جہاز سے اترتے ہی وطن کو روانہ ہو جائیں گے۔نماز میں حضور نے جمع کر کے پڑھائیں اور آجکل کے معمول کی طرح یہ نمازیں بھی بہت لمبی پڑھائیں۔شام کی نماز کی آخری رکعت کا پہلا سجدہ بہت ہی لمبا کیا۔جس میں خوب دعائیں ہوئیں اور عشاء کی نماز کی دوسری رکعت کا دوسرا سجدہ اتنا لمبا کیا کہ یہ بھی خیال نہ رہا کہ سجدے 0 دو ہوئے یا ایک اور ایک اور سجدہ کر دیا جو در حقیقت تیسرا تھا۔نماز کے بعد خود ہی پوچھا کہ سجدے تین تو نہیں ہو گئے ؟ عرض کیا گیا کہ تین ہوئے ہیں۔تب دوسجدات سہو کر کے سلام پھیرا - فرض نمازوں اور وتر کی نماز سے فارغ ہو کر حضور ا ندرتشریف لے گئے۔آج رات بھی آخر رات سمجھ کر کچھ شور و شعب کا لوگوں نے ارادہ کیا تھا مگر اللہ کریم نے تیز ہوا چلا دی جس سے ان کے دیئے اور چراغ بتیاں اور باغ گلزار اور جھاڑ جو انہوں نے بڑی محنت سے روشنی کے لئے تیار کئے تھے اُلٹ پلٹ کر دیئے۔آخر وہ خائف ہوئے کہ ناچتے کودتے کہیں انسان ہی اُڑ کر سمندر کی نذر نہ ہو جائیں۔ناچ رنگ کے ارادے ترک کر کے امن سے گھروں میں سو گئے ہیں۔خدا بھلا کرے ورنہ ایسا ادھم مچاتے کہ امن ملتا نہ توجہ لگتی۔ہوا کی تیزی