سفر یورپ 1924ء — Page 370
فائدہ ہوا ہے۔آج بھی ناشتہ کے میز پر ایک خط ایک لیڈی کا آیا اس نے جواب بھی مانگا ہے اور لکھا ہے کہ خط کو پوشیدہ رکھیں اعلان نہ کریں۔پیٹنی کی زمین کے فروخت کرنے کا سوال ملتوی ہو گیا ہے اور اب تجویز یہ ہے کہ اگر خدا کرے تو حضرت اقدس خود اپنے دست مبارک سے ہی وہاں ( البيت ) کا سنگ بنیا د رکھیں۔برلن (البيت) کی اراضی کے فروخت کرنے پر زور دیا جارہا ہے اور گاہک لگے ہوئے بھی ہیں۔مولوی مبارک علی صاحب کو پھر واپس جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔حضرت ۱۰ بجے کے بعد شاپنگ اور سیر کے لئے تشریف لے گئے اور ڈیڑھ بجے واپس تشریف لائے۔کھانا کھایا اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔حضور کی طبیعت کچھ مرجھائی ہوئی ہے۔نماز کے بعد انگریزی خوان اصحاب کو لیکچروں میں جانے اور پورے پورے نوٹ لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں خود بھی جانا چاہتا تھا مگر طبیعت خراب ہے۔کسی لیڈی کا خط آیا اور کسی مضمون کے متعلق اس نے معلومات دریافت کرنے چا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ اصل میں وہ اس مضمون کو مجھ سے لے کر اور میرے خیالات کو اپنی طرف منسوب کر کے کچھ لکھنا چاہتی ہے۔اس نے ملاقات کے وقت ہی اس مضمون اور ان خیالات کا دوسرا حصہ بھی مجھ سے پوچھنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت موقع نہ ملا۔اب خط کے ذریعہ سے پوچھنا چاہتی ہے۔اس کو لکھ دیا جائے کہ دو تین دن سے میری طبیعت خراب ہے آئندہ کا تو علم نہیں مگر اس وقت بھی طبیعت خراب ہے کچھ لکھ نہیں سکتا۔( حضور نے ظہر اور عصر کی نمازیں اسی عذر کی وجہ سے جمع کرائیں ) حضور نمازوں کے بعد سیر کو تشریف لے گئے۔صرف ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ساتھ تھے۔کسی دکان پر بھی حضور گئے شام کی نماز کے بعد واپس تشریف لائے اور اس وقت کہ ساڑھے سات بجے ہیں اپنے کمرہ میں ہیں اور خرید فروخت کی باتیں ہو رہی ہیں۔سیکنڈ ہینڈ کتا ہیں یہاں کوڑیوں کے مول ملتی ہیں۔کوئی بیس پچیس پونڈ کی قیمت کی کتابیں آج ماسٹر نواب الدین صاحب حضرت اقدس کے لئے گل ۶ شلنگ میں لائے ہیں۔یہ وہی کتا بیں ہیں جو حضور کل پسند کر آئے تھے مگر دکان خراب تھی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے تھے طبیعت خراب ہوگئی تھی۔