سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 371 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 371

۳۷۱ مولوی عبد الرحیم صاحب درد کا آج لیکچر ہے وہ چپکے سے کہیں نکل گئے ہیں۔پتا نہیں کہاں گئے۔شاید ا کیلے ہی جہاں ان کا لیکچر ہے چلے گئے ہیں تا کہ نہ کوئی ان کے ساتھ جائے اور نہ ان کو بولتے سنے۔لیکچر کی تیاری تو انہوں نے کر رکھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلسہ اعظم مذاہب والے لیکچر کے نوٹ لکھ لئے ہوئے ہیں اور حضرت خلیفتہ المسیح کے لیکچر کے نوٹ بھی لئے گئے ہیں۔غالبا شرم کی وجہ سے وہ اکیلے ہی چلے گئے ہیں یہ تو ہونہیں سکتا کہ وہ لیکچر پر نہ جائیں لیکچر ان کا کہاں ہے؟ سو اس کے متعلق عرض ہے کہ اس جگہ کا نام ہے۔School of dance اس سے یہ نہ سمجھ لیا جاوے کہ وہاں کوئی ایسے ویسے لوگ ہیں نہیں بلکہ یہاں تو تہذیب کا نشان ہی یہ ہے کہ اس علم سے بھی لوگ واقف ہوں۔موسیقی بھی جانتے ہوں خصوصاً عورتیں۔غرض وہ آج اسی قسم کے ایک سکول میں لیکچر کے لئے گئے ہیں۔آنریبل ڈاکٹر جونز نائیجیرین کی رات کے کھانے پر دعوت تھی وقت مقررہ سے لیٹ ہو کر آئے۔تین اور آدمی بھی ان کے ساتھ نیر صاحب نے کھانے پر بلوائے۔حضرت اقدس کی طبیعت اچھی نہ تھی مگر ان کی خاطر حضور کھانے پر تشریف لے آئے کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو قابل ذکر ہو۔نماز میں حضور نے اپنے ہی کمرہ میں ادا کیں۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد چپکے سے چلے گئے تھے ان کے پیچھے مکر می مولوی محمد دین صاحب، مولوی مبارک علی صاحب، خان صاحب ، حکیم فضل الرحمن صاحب بھی گئے کہ ان کو تنہائی کی تکلیف نہ ہو۔جہاں لیکچر تھا وہ در حقیقیت ایک مدرسہ ہی تھا۔چھوٹا سا کمرہ جس میں صرف ۴ مرد ایک لڑکا اور ۸ عورتیں تھیں ۵ آدمی ہمارے تھے گل ۱۸ کی تعداد تھی۔حکیم فضل الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ لوگ ابھی ابھی سبق یاد کرنے سے فارغ ہوئے تھے اور کہ تفریح کے طور پر یہ لیکچروں کا سلسلہ انہوں نے ہر بدھ کو قائم کر رکھا ہے۔چنانچہ حکیم صاحب نے بتایا کہ مولوی صاحب نے لیکچر پڑھا اور خوب پڑھا۔لیکچر کی خوبی کے متعلق تو کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خیالات تھے مگر مولوی صاحب نے اس کو ادا اچھا کیا۔لیکچر کے بعد سوالات کا سلسلہ جاری ہوا اور دو اڑھائی گھنٹہ تک لمبا ہو گیا۔وہ آزاد خیال لوگ گرجا میں تو ایسے سوالات پوچھ نہیں سکتے ان کو گھر میں اپنے مکان پر ایسے لوگ مل گئے جن سے وہ دل کھول کر سوالات