سفر یورپ 1924ء — Page 338
۳۳۸ اس مرحلہ پر دوستوں نے حافظ روشن علی صاحب کو حضرت اقدس کے حضور عرض کرنے کی غرض سے پیش کیا تھا۔ان کی عرض پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کا اس میں کیا تعلق ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ تعلق نہیں تو سفارش تو کر سکتا ہوں۔الغرض باتیں بہت تھیں لمبی نہیں لکھتا کہ مبادا پھر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے۔جلد جلد حضرت اقدس نے مضمون کے ترجمہ کے ختم کرنے اور ٹائپ کرانے کا حکم دیا۔نماز ظہر و عصر جمع کر لی گئی اور حضور ساڑھے تین بجے ہوٹل کو تشریف لے گئے جو دوست الگ لگ اوراق لے کر ترجمہ کر رہے تھے ان کو ختم کر کے قادیانی کے حوالے کر آنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ قادیانی ٹائپ کروا کر ہوٹل میں لے آوے کیونکہ وہاں سے اتنی فرصت نہ ہوگی کہ پھر مکان پر آ کر دوسرے لیکچر کے لئے جائیں۔مکرم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، چوہدری محمد شریف صاحب، مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور چوہدری محمد خان صاحب ترجمہ ختم کر کے حضرت کے پیچھے ہوٹل میں جا پہنچے مگر مولوی محمد دین صاحب ( جو واقعی ایک محنت کش کا رکن انسان ہیں ) اور ملک غلام فرید صاحب نہ گئے اور گل مضمون کی تیاری اور ٹائپ ہو چکنے کے بعد میرے ساتھ ہی ہوٹل کو گئے۔ہوٹل میں جب ہم لوگ پہنچے تو حافظ صاحب چائے سے فراغت پر مثنوی رومی کے اشعار پڑھ رہے تھے اور ان کا بھی آخری شعر ان کی زبان پر تھا۔مجلس لگی ہوئی تھی اور لوگ ادب اور خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے بڑھ کر مضمون پیش کیا جس کو لے کر حضرت اقدس نے کسی دوست کے سپر د کر دیا۔مجلس برخاست ہوئی اور عورتیں اور مرد شکریہ اور سلام کے بعد رخصت ہونے لگے۔عورتیں ذرا ادب سے کسی قدر جھک کر سلام کرتی تھیں اور مردمصافحہ بھی کرتے تھے۔یہاں کی عورتیں جن کے ہاتھ ان کے قابو میں ہی نہیں ہوتے اور جب کوئی مردان کے سامنے ملاقات کو آتا ہے تو جھٹ بے اختیار اور بے ساختہ ان کے ہاتھ اچھل پڑتے ہیں اور ان کو چین نہیں آتا اور دل نہیں مطمئن ہوتا ان کا بلکہ ان کو اپنی بے عزتی اور تو ہین وہتک کا خیال دامنگیر ہو جاتا ہے اگر مصافحہ نہ کریں یا نہ کیا جاوے۔وہ عورتیں ہاں وہی آزاد خیال اور اپنے فیشن کی دلدادہ عورتیں جب ان کو ایک امرا چھی طرح سے مدلل کر کے سمجھا دیا گیا۔اس کے نقائص اور کمزوریاں جتا دی گئیں تو انہوں نے اب مصافحہ نہ کرنے میں ہی اپنی عزت اور اپنا وقار و احترام یقین کیا اور دونوں ہاتھوں کو بجائے