سفر یورپ 1924ء — Page 256
۲۵۶ حضرت نے فرمایا کہ مجھے تو شائد امریکہ کے قانون کے مطابق امریکہ میں داخل بھی نہ ہونے دیں ( آنکھوں کی بیماری کی وجہ سے یا کثرت ازدواج کی وجہ سے اس کی تصریح نہیں فرمائی ) اس پر اس نے عرض کیا کہ ان باتوں کا میں ذمہ لیتا ہوں کہ کوئی روک حضور کے داخلہ کے متعلق پیش نہ آوے گی۔آمد ورفت کے دس دن اور پانچ دن وہاں کے قیام کے کل دو ہفتے آپ مجھے اپنے اوقات گرامی سے امریکہ کے لئے دے دیں۔آپ دیکھ لیں کہ پھر کبھی اگر ہندوستان سے حضور کو امریکہ آنے کی ضرورت ہوئی تو حضور کا نکلنا کن مشکلات کا موجب ہوگا۔اب تو حضور قادیان سے نکلے ہوئے ہیں اور امریکہ کے دروازہ پر ہیں۔اس کی ان باتوں پر حضور حساب وغیرہ لگاتے رہے کہ کب جایا جائے تو کب تک واپسی ہو سکتی ہے ٹکٹ تو ضائع نہ ہوں گے۔یہ بھی فرمایا کہ اب تو ہماری واپسی کا بھی انتظام ہو چکا ہے۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عرض کیا کہ حضور پھر اس کمپنی کے ۱۵ یا ۱۶ نومبر کے جہاز پر بمبئی کے لئے سوار ہو سکتے ہیں۔الغرض اس قسم کی با تیں دیر تک ہوتی رہیں۔حضور نے شام کی نماز پڑھائی اور تشریف لے گئے اور پھر عشاء کی نماز کے لئے تشریف لائے اور نماز کے بعد مکرم جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے کمرہ میں تشریف لے گئے جو حضور سے بالائی منزل پر تھے اور جہاں وہ ترجمہ کر رہے تھے۔اس کے بعد حضور او پر ہمارے کمرہ میں تشریف لائے۔میں سنتیں پڑھ رہا تھا اور عرفانی صاحب اور مولوی محمد دین صاحب مسٹر بینٹ ہاؤس کیپر بڑھیا سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔غالب خیال ہے کہ حضور نے یہ باتیں سنی ہوں گی۔حضور کمرہ میں چپکے سے داخل ہوئے۔دروازہ کھلا تھا السلام علیکم کہہ کر تشریف لے آئے۔مسز بینٹ تو نکل گئی مگر میرے ساتھی بہت شرمندہ ہوئے کہ حضور کیا کہتے ہوں گے مگر حضور نے جتایا کچھ نہیں۔آج کے لیکچر کی رپورٹ اور آمد ورفت کے حالات حضور کے ہمرکاب ساتھیوں سے معلوم کر کے عرض کرنے کی کوشش کروں گا مگر اب بعض ساتھی حالات بتانے میں بخل کرتے ہیں یا بے پروائی کرتے ہیں۔بہر حال بتاتے نہیں یا عذر کر دیتے ہیں۔