سفر یورپ 1924ء — Page 239
۲۳۹ خدا تعالیٰ کسی کے ہاتھ پر نشان دکھائے خدا تعالیٰ کا اپنا وجود ہی مخفی ہو رہا ہے۔صرف اور صرف جسمانی لذتوں کے حصول کی فکر میں لوگ مشغول ہیں اور مذہب کے احکام کو تو ظاہری شکل کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن کالر اور نکھائی اور بوٹ اور لباس کی اور بہت سی اقسام اور کھانے کے طریق وغیرہ کے متعلق اپنے خود ساختہ قوانین کی اس قدر پابندی کر رہے ہیں کہ گویا انسانی حیات کا واحد مقصد ہی وہی کام ہیں ذرا سے غور سے بھی انسان معلوم کر سکتا ہے کہ آسمانی احکام کو ظاہری شکل اور قشر کہنے سے ان کی یہ غرض نہیں ہے کہ ظاہری شکل اور قشر کی ضرورت نہیں بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ خدا کے احکام کو منسوخ کر کے وہ خود قواعد بنانا چاہتے ہیں۔یہ انکار در حقیقت قانون کا نہیں ہے بلکہ قانون بنانے والے کے حق کا ہے۔اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان حالات میں اس بات کی ضرورت ہے یا نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تازہ پیغام بندوں کو آئے تا کہ وہ محسوس کریں کہ ان کا خدا زندہ خدا ہے اور طاقتور خدا ہے اور یہ نہیں کہ دیر تک کام کر کے تھک گیا ہے اور جنت کے کسی گوشہ میں سورہا ہے۔ضرورت پیغام کو ثابت کرنے کے بعد میں اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں اور آپ کو بتا تا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو چھوڑا نہیں اور وہ ان کی ضروریات کو بھولا نہیں بلکہ اس نے اسی طرح اپنے ایک برگزیدہ کے ذریعہ سے دنیا کی ہدایت کے لئے پیغام بھیجا ہے جس طرح کہ اس نے نوح - ابراہیم۔موسی - داؤد - مسیح - کرشن - رامچند ر- بدھ - کنفیوشس - زرتشت اور محمد ﷺ کی معرفت پیغام بھیجا تھا۔اس پیغام بر کا نام احمد تھا اور جو لوگ اس کے پیغام کو قبول کر کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں وہ اسی طرح خدا کے فضل کے وارث ہوتے ہیں جس طرح کہ پہلے نبیوں کے ماننے والے خدا کے فضل کے وارث ہوتے رہے ہیں۔میں اسی پیغمبر کا ماننے والا ہوں اور اس کا خلیفہ ثانی ہوں اور اس محبت کی وجہ سے جو اس پیغمبر نے ہمارے دلوں میں بنی نوع انسان کے متعلق بھر دی ہے آپ لوگوں کو اس کا پیغام سنانے آیا ہوں۔وہ پیغام کیا ہے۔میں اس کو حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں ہی بیان کر دیتا ہوں۔(انگریزی)