سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 218 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 218

۲۱۸ پونے نو بجے وہاں پہنچنا چاہیئے۔چنانچہ جب اس کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے مولوی محمد دین صاحب سے شکایت بھی کی کہ ہم لوگوں کو بالکل آخری وقت اطلاع ہوئی ہے۔کیا اچھا ہو کہ روزانہ مفصل اعلان سب کو سنا دیا جایا کرے خواہ چائے پر خواہ کھانے پر۔اس پر انہوں نے فرمایا بہت اچھا ایسا ہی کیا جایا کرے گا۔پارٹی گلڈ ہاؤس کو گئی اور پہنچی۔مولوی مصباح الدین صاحب نے دروازہ کھلوایا اور ہم سب لوگ اندر داخل ہوئے تو ہدایت ہوئی کہ نیچے چلے جاؤ مگر نیچے کی طرف اندھیرا تھا۔مولوی مصباح الدین صاحب آگئے تھے اور باقی لوگ ایک دوسرے کے پیچھے۔سیٹرھیاں اترنے سے شور ہوا تو مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے کہا آہستہ آہستہ اُتر و شور نہ ہونے دو۔نیچے اندھیرا تھا اور صرف سٹیج پر کچھ روشنی تھی جہاں دو عورتیں اور دو مرد کھڑے تھے۔ہم لوگ نیچے اُتر کر حیرت میں کھڑے ہو گئے کہ ہم کہاں آگئے ہیں شاید یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں ہم نے جانا ہے کہ اتنے میں پردہ اُٹھا اور کمرہ سارا روشن ہو گیا اور ایک ترکی ٹوپی والے آدمی نے آکر کچھ اعلان کرنا شروع کیا کہ آئندہ کیا ہوگا۔جس کو سمجھ کر مولوی عبدالرحیم صاحب در دسب سے پہلے اُٹھے اور گھبراہٹ سے مولوی محمد دین صاحب اور شیخ صاحب عرفانی اور مجھ سے فرمایا کہ اب کیا کیا جاوے کیونکہ یہاں تو ڈرامہ ہوگا ہم تو حضرت اقدس کا لیکچر سننے کو آئے تھے مگر یہاں کچھ اور ہی ہورہا ہے۔اس سے ذرا پہلے خان صاحب کو ملک غلام فرید صاحب نے آکر کہا کہ حضرت اقدس آگئے ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ حضرت اقدس کہاں بیٹھیں گے اور دل میں خوش تھے کہ حضرت کے آنے سے پیشتر انہوں نے اچھی جگہ بیٹھنے کی حاصل کر لی ہے۔خان صاحب نے کہا کہ میں جا کر حضرت اقدس کو لاتا ہوں۔حضور بھی اس جگہ آدیں گے اور لیکچر اسی جگہ ہو گا۔شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اور ملک غلام فرید صاحب جو سیڑھیوں سے اُترنے میں سب سے پیچھے تھے وہ بھی اوروں کی طرح گھبراہٹ میں تھے کہ ہم کہاں آ گئے ہیں مگر یہ نقشہ دیکھ کر دونوں واپس اوپر چلے گئے۔اتنے میں حضرت اقدس بھی تشریف لے آئے اور پوچھا کہ خان صاحب کہاں ہیں ؟ ملک غلام فرید صاحب نے عرض کیا کہ وہ نیچے ہیں۔وہ خان صاحب کو بلا کر لے گئے اور پھر بھی کسی کو نہ بتایا کہ لوگ یہاں نہ رہیں حالانکہ ان کو علم تھا۔چوہدری فتح محمد خان