سفر یورپ 1924ء — Page 184
۱۸۴ یہاں کے لوگ کوٹ چھوٹا اور پتلون نہ پہنیں تو کیا کریں؟ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو مبارکباد : ۳ رستمبر حضور رات کو قریبا تین بجے تک مضمون سنتے رہے۔ہمارے محترم مخلص نوجوان چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے بہت ہی قابلِ مبارک باد ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ ایسے عظیم الشان تبلیغی کام لے رہا ہے اور ان کے والدین اور بھی زیادہ لائق تحسین اور قابلِ مبارکباد ہیں جن کو اللہ کریم نے ایسا لائق نیک اور خادم دین بچہ دیا اور یہ خدا کا خاص فضل ہے۔پانچ یا چھ دن سے دن رات ترجمہ کے کام میں مصروف ہیں۔گو وقت کی تنگی کی وجہ سے ترجمہ کرنے میں جلدی کر رہے ہیں اور زیادہ توجہ اور فکر کا موقع نہیں ملتا مگر خدا نے ایسا ملکہ دیا ہے کہ اہلِ زبان بھی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔برائیٹین میں حضور نے جو ایڈریس پڑھا تھا اس مضمون کو برائیٹین کے دو اخبارات نے پورا پورا شائع کیا ہے اور چوہدری صاحب کی انگریزی کی بہت بڑی تعریف کی ہے کیا بلحاظ زبان اور کیا بلحاظ لہجہ کے۔حضرت اقدس پھر کئی روز سے متواتر باوجود بیمار ہونے کے سخت محنت کر رہے ہیں۔حضور نے اف اف اف - ہائے ظالم خدا تجھے ظلم کی سزا دے اور ایک بے گناہ معصوم کے سنگسار کرنے کی پوری پوری پاداش دے تو نے اپنے ذمے سے احمدیت کے داغ کو مٹانے کی کوشش میں اور دنیا کو خوش کرنے کی غرض سے ایک بے گناہ کو محض اس وجہ سے قتل کیا ہے کہ وہ خدا کو اپنا رب اور حضرت احمد کو خدا کا مرسل یقین کرتا تھا۔تو یقین رکھ کہ جن باتوں کے حصول کے لئے تو نے یہ فعل کیا ہے وہ اغراض تجھے ہر گز گز میسر نہ آئیں گے اور جن کو خوش کرنے کے لئے تو نے اس غریب بے کس، بے بس کو قتل کیا ہے وہ یقینا تیری جان کے دشمن اور تیرے خون کے پیاسے ثابت ہوں گے۔یا درکھ! کہ خدا تجھے نہ چھوڑے گا۔حتی کہ اس دنیا میں بھی تجھے ذلت اور رسوائی کے اتھاہ گڑھے میں ڈال دے اور آخرت کا عذاب اور بھی سخت واشر ہو گا کے الفاظ دہراتے ہوئے مضمون کا ترجمہ سنا۔مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کی خبر : ٹھیک پونے چار بجے ہیں کہ ایک تار ارجنٹ