سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 7 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 7

مظفر نگر اور میرٹھ : مظفرنگر ، میرٹھ چھاؤنی اور شہر کے دوست حضور کی دست بوسی اور زیارت کو آئے اور فیضیاب ہو کر واپس چلے گئے۔غازی آباد آیا اور دہلی پہنچے۔دہلی کا سٹیشن ،۱۳ / جولائی : جماعت نے ایک شاندارو یکم (Well Come) کا جھنڈا تیار کر رکھا تھا اور پلیٹ فارم پر استقبال کے لئے حاضر تھی۔فوٹو کے واسطے خاص انتظام تھا۔دوپہر کے کھانے کا بھی دہلی کی جماعت نے انتظام کر رکھا تھا۔دودھ، چائے اور برف بھی آئی۔بریلی ، شاہجہانپور کی جماعتیں اور قائم گنج کے عبد الغفار خان صاحب بھی دہلی ہی کے اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔علی گڑھ سے ڈاکٹر ا قبال علی صاحب عفی عنہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔دہلی اسٹیشن پر پہنچ کر ایک اور دقت کا سامنا ہوا اور وہ یہ تھا کہ 4 بڑے بکس جو ہم نے بک کرا کے بریک میں رکھوائے ہوئے تھے جی۔آئی۔پی۔آر کے گارڈنے نکلوا کر باہر رکھ دیئے اور کہا کہ بی۔بی اینڈ سی۔آئی۔آر سے بک ہوئے ہیں اُسی گاڑی سے جائیں گے میں نہیں لے جاؤں گا۔بہت بڑی کوشش کی گئی۔دوڑ دھوپ ہوئی مگر وہ نہ مانتا تھا۔گاڑی بھی چند منٹ لیٹ ہو گئی۔سامان ضروری تھا اگر ہمارے ساتھ نہ جاتا تو وہ ضائع ہو جاتا یا بے کار ہوتا۔آخر خدا نے کوئی ایسی صورت پیدا کر دی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ کا ساتھ ہی چلا آیا۔اسی طرح سے ہر مشکل کے وقت اللہ کریم نے خود ہماری مدد کی اور ہماری کمزوری اور بیجز پرستاری کی چادر ڈالی اور ہمارے سارے کام خود سنوارے اور دہلی سے گونہ تسلی اور اطمینان کا سفر شروع ہوا۔دہلی سے نکل کر کئی اسٹیشنوں کے بعد ایک جگہ گاڑی ٹھہری۔وہاں بھی دو تین دوست حضور کی زیارت کی غرض سے موجود تھے جو میرے خیال میں بلب گڑھ کے تھے۔یہ عرض کرنا رہ گیا کہ امرتسر سے مکر می مستری حاجی محمد موسیٰ صاحب نے برف کا انتظام کیا جو دہلی تک جاری رہا اور خود بھی دہلی تک حضرت کے ہمرکاب تشریف لائے۔چلتی گاڑی میں دوستوں کو دہلی سے آیا ہوا کھانا کھلایا گیا۔