سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 131 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 131

۱۳۱ مجھے یہ بھی شبہ ہے کہ چاروں طرف عورتوں ہی کی تصویر میں ہیں یا کہ کوئی ان میں مرد بھی ہے۔بہر حال اس نقص کے ساتھ وہ حوض عین چوک بازار میں فواروں کا شاندار منظر دکھاتا ہے۔آج اتوار کی وجہ سے بازاروں کی دکانیں بند ہیں کیونکہ لوگ سیر گا ہوں کو چلے جاتے ہیں۔بازاروں میں سے عموماً ضروریات کی فراہمی میں دقت ہوتی ہے۔سبزی اور فروٹ کی مارکیٹ ۱۲ بجے سے پہلے لگتی ہے اور پھر وہ بھی بند ہو جاتی ہیں۔بعض اور دکانات بھی ۱۲ بجے تک کھلتی ہیں مگر ۱۲ بجے کے بعد سوائے قہوہ خانوں کے اور کوئی دکان نہیں کھلتی۔ہمیں ہوٹل میں پہنچتے اور سامان وغیرہ لگاتے ساڑھے بارہ بج گئے کھانے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔بازار کو گئے تو بمشکل خشک روٹی لائے جو روکھی کھائی۔حضرت اقدس کے واسطے بند ( بن ) اور کچھ پیسٹری اور مکھن لے گئے مگر حضور نے بہت تھوڑا کھایا۔پہلے ہمارے ہوٹل والی عورت سے فیصلہ ہوا تھا کہ وہ ہمیں کھانا پکانے کی جگہ اور اجازت دے گی مگر بعد میں وہ منکر ہوگئی اس وجہ سے حضور کے واسطے چوزہ وغیرہ بھی نہ پک سکا جو بڑی تلاش کے بعد بازاروں سے ڈھونڈ کر لائے تھے۔آخر حضور نے بالکل تھوڑ اسا برائے نام ہی ناشتہ کیا۔حضرت اقدس کے حکم سے اور ہوٹلوں کی تلاش شروع کی جس میں ہمیں اپنا کھانا پکانے کی اجازت ہو سکے۔بڑی مشکل یہاں یہ ہوئی کہ زبان کوئی نہیں سمجھتا۔لاکھوں میں سے شائد کوئی ایک آدھ انگریزی جانتا ہوگا۔بڑی تلاش کے بعد تھک کر واپس ہونے کا ارادہ کر لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی بھیج دیا جس نے ہنستے ہنستے پوچھا ؤٹ یو وانٹ ؟ ?what you want) ان الفاظ سے دل خوش ہو گئے اور اُمید کی جھلک دکھائی دینے لگی۔جواب دیا گیا کہ انگلش نوئنگ مین (knowing man) جس کے جواب میں اس نے کہا ہیر آئی ایم ( here I am) - اس سے درخواست کی گئی کہ ہمیں کوئی ایسا ہوٹل بتائیے جس میں ہم لوگ کھانا اپنا کا سکیں۔اول تو اس نے بتایا کہ یہ بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے پھر وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ہوٹل والے حرام حلال کی تمیز نہیں کرتے ہم لوگ مسلمان ہیں ہمیں اپنے ہاتھ کا ذبیحہ پکانا ہو گا۔یہ وجہ معلوم کر کے اس کو زیادہ خیال ہوا اور اس نے آخر ایک ہوٹل کی لائن کی طرف اشارہ کیا جس میں تلاش کرتے کرتے ایک ایسا ہوٹل بھی مل گیا جو نصف کرایہ کا تھا۔یہ بھی اجازت دے دی کہ اپنے ہی کمرے کے اند رسٹو و پر کھانا پکا لیا کرنا۔