سفر یورپ 1924ء — Page 132
۱۳۲ چنانچہ شام کے 9 بجے اس ہوٹل میں دو کمرے دو آدمیوں کے واسطے لے کر میاں رحمدین کو حضرت اقدس کے واسطے چوزہ پکانے کو بھیج دیا گیا جو اب کہ رات کے ساڑھے دس بجے ہیں حضرت اقدس کے حضور تیار ہو کر پہنچ چکا ہے۔انشاء اللہ حضور اب کھانا اچھی طرح سے کھائیں گے۔چوہدری علی محمد صاحب کو بھی میاں رحمدین کے ساتھ اسی ہوٹل میں بھیج دیا گیا ہے۔ہم لوگ بھی انشاء اللہ صبح کو اگر رات کو وہ ہوٹل بھر نہ گیا تو اسی میں چلے جائیں گے کیونکہ اس میں خرچ نصف ہوگا۔موجودہ ہوٹل والے تمام دوست صرف خشک روٹی اور اُبلے ہوئے نمک لگے آلو کھا کر سو گئے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ اور کچھ انتظام نہیں ہو سکا۔سید نا حضرت اقدس آج ۴ بجے کے بعد موٹر کے ذریعہ سیر کو تشریف لے گئے تھے۔شہر کے بعض حصوں کے علاوہ اصحاب الکہف والے غاروں پر بھی گئے مگر باہر ہی باہر پھر کر واپس تشریف لے آئے ہیں۔کل برنڈ زی سے چلتے ہوئے وہاں کے ہوٹل کابل آیا تب اس کی ارزانی کی حقیقت معلوم ہوئی۔اس نے ساری کسر کھانے ہی میں نکال لی اور گیارہ پونڈ کا بل پیش کیا یعنی چند گھنٹہ ٹھہر نے اور ایک پنچ اور شام کے لئے دو دو ٹوسٹ ، نصف چھٹانک چاول چوتھا حصہ مرغی کا اور کچھ بے نمک کے پھلیاں اور ایک چھٹانک فی کس انگور لفافوں میں بند کر کے دیئے۔ان سب کا بل فی کس ایک پونڈ بنایا - انا لله وانا اليه راجعون کنگ والے نے بھی اپنا بل پیش کیا اور وصول کیا مگر سفر میں تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ لک والے بھی بہت کچھ ہاتھ پھیر لیتے ہیں اور جیسا کہ ان سے اُمید کی جاتی ہے ہمدردی اور خیر خواہی سے کام نہیں کرتے بلکہ اپنا لحاظ اور رسوخ قائم رکھنے کے لئے قلیوں ، گاڑی بانوں اور ہوٹل والوں کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور خود بھی دوہرا ہاتھ مارتے ہیں۔مسافروں سے براہ راست الگ وصولی کرتے ہیں اور ہوٹل والوں سے بھی کمیشن لیتے ہیں۔کل جو کٹک والے نے ہمیں بتایا کہ اس گاڑی سے صرف سیکنڈ کلاس پسنجر جا سکتے ہیں اس کی وجہ بعد میں معلوم ہوئی کہ ان کو سیکنڈ کلاس ٹکٹوں میں کمیشن ملتا ہے ورنہ ایک صورت ایسی بھی ممکن تھی کہ اکثر حصہ سفر کا ہم لوگ تھرڈ میں طے کرتے اور تھوڑے سے حصہ کے لئے جہاں سے تھرڈ کلاس کٹ جاتی ہے ہم لوگ سیکنڈ کلاس ٹکٹ خرید لیتے مگر