سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 118 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 118

۱۱۸ معلوم ہوا ہے مجھ کو اہل پیغام یہ بعض احباب وفا کیش کی تحریروں سے میرے آتے ہی ادھر تم کھلا ہے یہ یہ راز تم بھی میدان دلائل کے ہو رن بیروں سے میں وہ زور اگر وہ طاقت ہے چاہو تو چھلنی کر سکتے ہو تم پشت عدد تیروں سے آزمائش کے لئے تم نے چنا ہے مجھ کو پشت پر ٹوٹ پڑے ہو مری شمشیروں سے مجھ کو کیا شکوہ ہو تم سے کہ میرے دشمن ہو تم یونہی کرتے چلے آئے ہو جب پیروں سے حق تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں میں یاد رہے وہ بچائے گا مجھے سارے خطا گیروں میری غیبت میں لگا لو جو لگانا ہو زور تیر بھی پھینکو کرو حملے بھی شمشیروں پھیر لو جتنی جماعت ہے مری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم مکروں کی زنجیروں