سفر یورپ 1924ء — Page 95
۹۵ حالانکہ وہ محض وفور محبت کی وجہ سے جمع ہوتے اور دروازے تو ڑ کر ہوٹل کے اندر گھسنا چاہتے تھے۔کیا ہمارے جلسہ میں دروازے اور شیشے نہیں ٹوٹا کرتے ؟ اگر ان کی طرف توجہ ہوتی تو بہت ہی بڑا فائدہ ہوتا مگر خیر احتیاط اسی میں تھی جو کیا گیا۔پولیس بھی خوفزدہ تھی اس وجہ سے احتیاط کی گئی اور بعض ملاں لوگ تھے بھی لوگوں کو بھڑکاتے۔بعض بچے ناشائستہ حرکات بھی کرتے تھے مگر بالعموم لوگ محبت ، اشتیاق اور ولولہ عشق ہی سے جمع ہوتے رہتے تھے۔سٹیشن پر بھی غیر معمولی ہجوم ہو گیا جو الوداع کہنے کو آیا ہے۔دمشق سے روانگی : حلبی مدیر صاحب ہمرکاب سفر ہیں۔برٹش قفل یا حکومت کی طرف سے ایک خاص پولیس کا سپاہی حضرت اقدس کے ہمرکاب بیروت تک پہنچانے کو متعین ہے جو پولیس کی وردی میں ساتھ ساتھ جاتا ہے اور ہر قسم کی سہولت پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔بعض سٹیشنوں پر لوگوں کو ایک یا دوسری وجہ سے حضور کی تشریف آوری کا علم بھی ہو گیا تھا وہ شوق ملاقات کے لئے سٹیشن پر گاڑی کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔بعض لوگوں کو چوہدری علی محمد صاحب یا حلبی مدیر صاحب اطلاع بھی کر دیتے ہیں اور اس طرح سے اسی ساری لائن پر پورا پورا اعلان حضرت کی تشریف آوری کا ہو گیا ہے۔حضرت اقدس درجہ اولیٰ میں سوار ہیں۔ٹوٹکٹ سیکنڈ کے ہیں اور صرف تین ٹکٹ ہمارے تھرڈ کلاس کے ہیں چو ہدری علی محمد صاحب ، میاں رحمدین صاحب اور خاکسار قادیانی باقی سب کے دمشق میں تبلیغی کامیابی کی یادگار یا خصوصیت دکھانے کی غرض سے سیکنڈ کلاس کے لئے گئے ہیں تا کہ یہاں کے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فقرا ہیں اور غیر ملک میں نکل کر کوئی خلیفہ کوئی سیکرٹری اور کوئی وزیر بن گئے ہیں۔وضع داری کے خیال سے سب کے سیکنڈ کلاس ٹکٹ لئے گئے ہیں۔کل حضرت اقدس نے خان صاحب کی اچکن کے متعلق بھی فرمایا کہ اس کو اب پینشن دے دینی چاہیئے کئی پیوند روز اس کو لگائے جاتے ہیں اور وہی پہن کر گورنر اور قنصلوں اور بڑے بڑے عہدہ داروں کی ملاقات کو جاتے ہیں۔اس کو رکھ لیا جاوے قادیان جا کر پہن لیں۔دوسری اچکن وردی کی جو ساتھ ہے اس کو استعمال کریں۔قادیان میں اور بات ہوتی ہے وہاں ایثار اور قربانی دکھانی ہوتی ہے مگر ان علاقہ جات میں وضعداری رکھنی بھی لازمی ہوتی ہے تا کہ لوگ حقارت ہی نہ کریں۔ہم تین آدمیوں کے ٹکٹ تھرڈ کلاس کے ہیں اور بدقسمتی سے تینوں الگ الگ بیٹھے ہیں۔