سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 88 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 88

۸۸ کے لوگ ہمارے پاس ملاقات کے واسطے آویں گے اگر جگہ دے دو تو ہم ان کو تمہارے ہاں بلوا کر ملاقات کر لیا کریں۔دار السرور والے نے بسر و چشم منظور کیا مگر اس کا ڈرائینگ روم صرف ۲۰×۱۲ فٹ کا ہے۔گنجائش تھوڑی ہے کرسیاں بہت تھوڑی بچھ سکیں گی اور وہ ہے بھی بالکل ہی غیر محفوظ۔غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ پولیس کا انتظام کر لیا جاوے کہ جس کو ہم چاہیں داخلہ کی اجازت دیں اور جس کو نہ چاہیں وہ نہ داخل ہو سکے۔اتنے میں بعض متاثر لوگ بعض دوسروں کو ساتھ لے آئے اور ملاقات کی غرض سے باہر تشریف لانے کی درخواست کی۔حضرت اقدس نے فرمایا دو چار آدمی ہیں تو اندر ہی کرسیاں منگا لیں مگر ان لوگوں نے منتیں شروع کر دیں کہ ضرور باہر ہی حضور تشریف لے آویں چنانچہ حضور نے باہر جانا منظور فرما لیا اور اب بالائی منزل کے بڑے ڈرائینگ روم میں تشریف فرما ہیں۔ہوٹل والے نے عرض کیا کہ میرا نقصان ہو گیا ہے۔لوگوں نے دروازہ توڑ دیا ہے اور بعض شیشے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔اس سے کہا گیا ہے کہ اگر واقعی تمہارا کچھ نقصان ہماری وجہ سے ہو گیا ہے تو ہم سے لے لو مگر مناسب - اس پر وہ ٹھنڈا ہو گیا اور اصرار کو چھوڑ دیا اور معقول لوگ اب آتے ا جاتے بھی ہیں۔اشتہار چھپ چکا ہے اور مطبع والے نے کہا ہے کہ آپ کیوں افسروں کے پاس چلے گئے ہیں میں خود ہی اجازت حاصل کر لیتا اور اب بھی وہ گیا ہوا ہے اور کوشش میں ہے کہ اس کو اجازت دے دی جاوے کہ اشتہار مطبوعہ ہمارے حوالے کر دے۔پہلے خیال تھا کہ ۱۰ر کی صبح کو دمشق سے روانہ ہوں گے مگر آج حضور نے فرمایا ہے کہ وار کی شام کو یہاں سے روانہ ہو کر بیروت بذریعہ ریل جائیں گے۔نو جوان اور تعلیم یافتہ پارٹی ابھی شوق ملاقات اور عقیدت رکھتی ہے اور کتابوں کی درخواست کرتی ہے۔ہوٹل والا بہت ہی ننگ تھا۔نصرانی ہے مگر اس نے بھی بہت اصرار سے ایک کتاب اپنے پڑھنے کو اور اپنے ہوٹل کی لائبریری میں رکھنے کولی ہے اور حضرت اقدس کے دستخط سے لی ہے جس پر حضور نے لکھا ہے کہ میں نے میجر ہوٹل کو یہ کتاب پڑھنے اور لائبریری میں رکھنے کو دی ہے اور نیچے دستخط اپنے قلم سے کئے ہیں۔