سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 89 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 89

۸۹ اب چار بجے ہیں۔حضور ڈرائینگ روم کی ملاقات سے فارغ ہوئے ہیں اور اب حلب کا مدیر جریدہ تنہائی میں حضرت اقدس کے ساتھ ہے۔میں اندر تھا حضرت اقدس میرے سر پر آ گئے اور فرما یا بھائی جی باہر چلے جائیں علیحدگی میں بات کرنی ہے۔میں نے اس وقت حضرت اقدس کو دیکھا جب حضور میرے سر پر تھے۔میں کرسی سے کھڑا ہو گیا اور ندامت سے بھرا ہوا باہر آ گیا کہ دروازہ کھلنے پر میں نے کیوں نہ دیکھا کون ہے۔لکھ رہا تھا۔حلب والے مدیر صاحب ہوٹل کے متعلق کوئی ذکر کرتے تھے کر کے باہر آ گئے ہیں اور اب الْمُقْتَبَس کے ایڈیٹر صا حب مع دو اور نائب ایڈیٹروں کے حضرت اقدس کے پاس تخلیہ میں گئے ہیں۔غالبا کل کو مطالبہ پورا کرائیں گے یعنی حضرت اقدس کے بعض خصوصی حالات لکھوائیں گے۔میں صرف حالات عرض کر رہا ہوں تقاریر، سوال و جواب اور مباحثات کو مفصل شیخ صاحب عرفانی لکھ رہے ہیں وہ مفصل رپورٹ روانہ کریں گے۔میں تقاریر کا خلاصہ بھی درج نہیں کر سکا۔غلطی اور کوتا ہی یا قصور فہم و علم سے درگز را ور چشم پوشی کا طالب اور دعائے خیر کا خواہاں ہوں۔اب مولویوں نے لڑکوں کو بکواس کرنے کے لئے تیار کر لیا ہے اور وہ ہمارے آدمیوں کو آتے جاتے دیکھ کر کچھ بولتے اور بکتے ہیں مگر چونکہ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا اس وجہ سے کچھ بُرا بھی نہیں لگتا اور اگر بُرا لگے بھی تو موجب ثواب ہے۔خدا کی راہ میں ایسی باتیں سنی پڑا ہی کرتی ہیں۔ہوٹل والوں کا بل بھی آیا ہے۔اس میں ایسی باتیں درج کی ہیں کہ جن کا وجود بھی نہیں مثلاً آج دو پہر کا تمام کھانا ہمارے ذمہ ڈالا ہے وجہ یہ کہ ہجوم اور کثرت لوگوں کی وجہ سے میرا کھانا پک نہیں سکا۔اتنے شیشے لوگوں نے تو ڑ دیئے ہیں۔اتنی کرسیاں خراب ہو گئی ہیں۔دروازہ تو ڑ دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضرت اقدس نے حکم دیا ہے کہ اس کے نقصانات کو دیکھ لیا جا وے اگر واقعی ہوئے ہیں تو ادا کر دیئے جائیں۔۲۳ پونڈ کاہل ہے۔المقتبس کے ایڈیٹر صاحب مع اپنے ساتھیوں کے کام کر کے چلے گئے تو ان کے بعد وزیر صاحب گورنر حکومت کی طرف سے تسلی دینے کو آئے اور اندر تخلیہ میں حضرت اقدس کے حضور عرض کیا کہ کسی قسم کا فکر اور اندیشہ نہ کریں۔حافظ صاحب برابر لوگوں کو تبلیغ کر رہے ہیں۔طرز تبلیغ ان کا ایک لیکچرار کے رنگ میں ہے۔طلبا خاموشی سے سنتے ہیں کبھی کبھی سوال کر لیتے ہیں۔