سفر یورپ 1924ء — Page 85
۸۵ اخبار میں کل جو مضمون شائع ہوا ( اخبار الف با میں ) اس نے تمام دعاوی حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف منسوب کر دیئے تھے اس کی وجہ سے بھی لوگ کثرت سے آئے کہ حضور کو دیکھیں اور باتیں سنیں اور کرامات ما نگیں جیسا کہ ان کا عقیدہ ہے۔پولیس نے مجمع کو منتشر کر دیا اور اکثر چلے جاچکے تھے۔اس کے بعد خیال آیا کہ فوٹو لے لیا جاوے چنانچہ حضرت میاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے باقی ماندہ مجمع کا فوٹو لے لیا۔فرنچ گورنر نے کہا کہ کوئی ایسا قانون مجھے یاد نہیں اور نہ ہی میرے نزدیک کوئی قانون ایسا ہے نہ معلوم کیوں آپ کو روکا گیا ہے۔دراصل پر لیس والے نے غلط بیانی کی ہے۔یہ بھی کہا کہ آپ رسالہ چھپا ہوا ساتھ لے جا سکتے ہیں اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔وہاں سے پھر گورنر سجی بیگ کے پاس بھی گئے۔اس نے کہا کہ حریت اور آزادی صرف مسلمہ مذاہب کے لئے ہے۔مسلمان ( اہلسنت والجماعت ) اور عیسائی یہ لوگ باہم جو کچھ بھی شائع کریں اجازت ہے مگر باہر سے آنے والے مبشرین کو اجازت نہیں ہے حتی کہ پچھلے دنوں وہابی لوگ بھی آئے تھے ان کو روک دیا گیا تھا۔صحی بیگ نے سلسلہ کے متعلق باتیں بھی کیں اور پھر کہا کہ حقی بیگ کے پاس جائیں وہ کیا کہتے ہیں۔اب حقی بیگ کے پاس پھر جاتے ہیں۔حضرت اقدس نے حکم دیا ہے کہ برٹش فضل کو اطلاع دے دی جاوے کہ اس طرح سے ملانوں کی انگیخت کی وجہ سے لوگوں نے ہجوم کیا ہے مبادا کوئی فساد کی صورت ہو جائے۔آپ اس بارہ میں کیا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ خیال تھا کہ بعض لوگ ملانوں کی انگیخت کی وجہ سے فساد پر بھی آمادہ ہیں۔میاں رحمدین برف کے واسطے نیچے گیا تھا مگر پولیس نے دروازہ بند کر رکھا تھا اس کو باہر جانے کی اجازت نہ دی۔اب حضرت اقدس نے چوہدری علی محمد صاحب کو بھیجا ہے کہ معلوم کر وکس قسم کے لوگ ہیں جو دروازہ پر یا بازار میں جمع ہیں۔حضرت صاحب نے تجویز فرمائی ہے کہ آج موٹروں پر سوار ہو کر بازاروں میں نکلیں اور سود ا خریدنے کی غرض سے بعض جگہ دکانات میں جائیں پھر شہر کی حالت کا ٹھیک معائنہ ہو سکے گا کہ لوگ کس خیال کے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں یا کہ محبت سے ملتے ہیں۔یونیفارم میں پھرنے کا منشا ہے۔دمشق کی حالت بھی عجیب واقع ہوئی ہے۔دو دو پیسے کے نوٹ چلتے ہیں۔روزانہ نرخ