سفر یورپ 1924ء — Page 86
۸۶ تبدیل ہو جاتا ہے۔حکومت اور رعیت میں اختلاف ہے۔رعیت بھی عجیب ہے۔سخت مشکلات کا مقابلہ کرتی ہے اور روزانہ سکہ کے لین دین میں اس کو سخت مشکلات اور نقصان ہے مگر برداشت کرتی ہے اور پرواہ نہیں کرتی۔گورنمنٹ بھی خوب ہی مضبوط ہے رعایا کے جذبات کا ذرہ بھر بھی خیال نہیں۔تمام سرکاری لین دین میں سوری سکہ جاری ہے وہ دوسرا کوئی سکہ قبول نہیں کرتے ٹرام تک لوگوں نے بائیکاٹ کر رکھے ہیں۔مصر سے آج شیخ محمود احمد صاحب کی ڈاک وصول ہوئی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ مصری لوگ حضرت اقدس کی ملاقات غرض سے اب تک میرے مکان پر آ رہے ہیں۔ان کو تار دے دیا گیا ہے کہ مطبوعہ کتب کی ایک ایک سو کاپی لے کر پورٹ سعید اار اگست تک پہنچیں۔حضرت اقدس کا منشا ہے کہ اگر لاری کا اچھا انتظام نہ ہوا تو دمشق سے ریل کے ذریعہ بیروت جائیں گے اور پھر وہاں سے موٹروں کے ذریعہ سے حیفا اور حیفا سے لد - قنطارہ سے ہوتے ہوئے پھر پورٹ سعید تشریف لے جائیں۔ا ر کی شام تک وہاں پہنچنے کا ارادہ ہے۔یہ خط انشاء اللہ میں پورٹ سعید ہی سے پوسٹ کروں گا۔لوگ ابھی آ رہے ہیں اور آنے کی کوشش میں ہیں مگر ہوٹل والے اور پولیس والے ان کو آنے سے روکتے ہیں۔مولوی شکل لوگوں کے سوا باقی لوگ ہم سے محبت کرتے اور اظہار اخلاص کرتے ہیں۔خان صاحب آئے تو اکثر نے ان کا ہاتھ چوما۔چوہدری علی محمد صاحب آئے تو کسی نے تعرض نہ کیا اور محبت سے راستہ چھوڑ دیا۔میں گیا دوسرے ہوٹل میں اور کتاب لایا تو عزت سے سلام کیا اور سلام کا جواب محبت سے دیا اور راستہ خالی کر دیا۔غرض سوائے مولوی لوگوں کے باقی سب صرف شوق زیارت اور وفور محبت کی وجہ سے جمع ہوئے تھے۔شاید چند بد قسمت بدا رادہ بھی لے کر آئے ہوں۔پولیس جو ہوٹل پر متعین ہوئی تھی اس کی تعدادہ تھی جن میں دو تین افسر بھی تھے۔دس اوپر کی منزل میں حضرت اقدس کے پاس تھے اور پانچ یا چار نیچے کی منزل اور سیٹڑھوں اور سیڑھیوں کے دروازہ پر آتے جاتے رہتے تھے۔منارہ بیضا جس کا ذکر میں نے سنترال ہوٹل (سنٹرل ہوٹل ) کے جانب غرب کیا ہے