سفر یورپ 1924ء — Page 79
۷۹ رہی اور نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ خاص طور پر متاثر تھا۔خصوصاً حضور کا اہلِ زبان نہ ہونا اور چاروں طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے کے باوجود حضور کا نہ گھبرانا اور شیر کی طرح سے سب کے حملوں کا جواب دینا ایسی باتیں تھیں کہ خواہ مخواہ لوگوں کی ہمدردی ہمارے ساتھ ہو جاتی تھی اور پھر بڑی بات یہ تھی کہ حق ہمارے ساتھ تھا اور اس حق کو بیان کرنے والے ہمارے آقا خلیفہ اللہ ہیں۔آخر میں ایک جاہل گردن فراز مولوی دو اور بڑھے مدرسوں کو لے کر آیا اور لغت اور منطق وغیرہ میں باتیں کرنی شروع کیں۔حضور جواب دیتے رہے۔اس نے دجل کیا اور دھوکہ دے کر حضور کی طرف ایسی بات منسوب کی جو حضور کا منشا نہ تھا بلکہ حضور اس کے خلاف دلائل دے رہے تھے۔حضور کو اس کی اس حرکت سے رنج ہوا۔حضور نے اس کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تم کو معلوم ہو جانا چاہیئے کہ (حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے عبد مُكْرَم - حضور کو پہلے اور دوسرے دن دمشق میں خیال ہوا کہ لوگ آئے نہیں اور کہ کوئی تحریک لوگوں میں نہیں ہوئی جس پر حضور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں تحقیق حق کا جوش پیدا کر دے اس پر حضور کو یہ الہام ہوا اور ساتھ ہی وہ رجوع خلائق کہ جس کا بیان ممکن نہیں ) تم کسی اپنے شاگرد سے باتیں نہیں کر رہے بلکہ ایک سلسلہ کے امام سے کلام کرتے ہو جس کے شاگرد بھی تم کو سبق دے سکتے ہیں۔یہ بدخلقی تم میں شاید اس وجہ سے ہے کہ تم لڑکوں کے مدرس ہو چنانچہ اس بات سے گویا وہ مر ہی گیا پھر نہ بولا اور نہ ہی بول سکا بلکہ جلتا بھنا بکواس کرتا ہوا اُٹھ گیا اور سیڑھیوں پر جا کر بکا شِمْر لَعِيْنٌ نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْهَا) یہ بول وه بڈھا بولا تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو ضرور شِمْر لَعِيْنُ ہی بنا کر مارے گا۔اس کے بعد نوجوان طبقہ بیٹھا رہا اور نوجوان بہت محبت سے حضور سے باتیں کرتے رہے ایڈریس لیتے رہے اور پھر آنے کا وعدہ کرتے ہوئے بعد شام چلے گئے۔اخبار المقسم کا ایڈیٹرکل تین اور بڑے بڑے ایڈیٹروں یا نائب ایڈیٹروں کے ساتھ حضرت اقدس سے تخلیہ میں ملا۔حضور کے اس سفر کی غرض پوچھی جو حضور نے ابتدا سے انتہا تک اپنے عربی الفاظ میں اس کو نوٹ کرا دی۔کانفرنس کی اطلاع ، دعوت اور حضور کا جماعت سے مشورہ لینا وغیرہ وغیرہ عام حالات حضور نے لکھائے۔آئندہ سفر میں حضور کہاں کہاں جائیں گے، کیا اغراض ہیں، واپسی کب ہو گی ، کہاں کہاں ٹھیریں گے وغیرہ وغیرہ سوالات کے جوابات حضور نے لکھائے