سفر یورپ 1924ء — Page 71
اے اتنی جلدی جلدی کرنے لگے کہ کچھ سمجھ میں ہی نہ آتا تھا کہ کہتے کیا ہیں اور اتنے زور سے بولتے تھے کہ خطرہ ہوتا تھا کہ سینہ ہی کسی کا پھٹ جائے۔تھوڑی دیر ذکر کرنے کے بعد انہوں نے سجدہ کیا کھڑے ہوئے۔ایک شخص نے آخر خوش الحانی سے قرآن پڑھا اور ذکر ختم کیا۔ذکر کے بعد حضرت اقدس پھر پہلے دالان میں تشریف لے گئے اور انہوں نے سب کو قہوہ پلایا۔حافظ صاحب نے مثنوی رومی کے چندا بتدائی شعر پڑھے پھر حضرت صاحب کا عربی قصیدہ سنایا پھر اردو کے چندا شعار مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے مل کر پڑھے۔ان کا ترجمہ حافظ صاحب نے عربی میں کیا۔حضرت صاحب نے حضرت مسیح موعود کا دعوئی ان کو سنایا۔پھر ان میں سے ایک مولوی صاحب نے ایک عربی قصیدہ پڑھا جس کی ہم کو کچھ سمجھ نہ آئی ایسے کچھ لہجہ میں پڑھا۔وہاں سے واپس آن کر رات کے ۱۲ بجے حضور نے کھانا تناول فرمایا اور آرام کے لئے اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے۔اگست : آج صبح کو سوا آٹھ بجے چونکہ فضل برٹش نے حضور کی ملاقات کی غرض سے ہوٹل میں آنا تھا اس کے لئے رات ہی احکام صادر ہو چکے تھے کہ صبح کو تمام دوست یو نیفارم میں ساڑھے سات بجے حاضر ہو جائیں۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل کی گئی اور سب دوست یو نیفارم پہن کر وقت پر حاضر ہوٹل ہو گئے۔ملاقات کی غرض سے درمیانی چھت کا سیلون تجویز کیا گیا تھا جس میں تیرہ کرسیاں بچھائی گئی تھیں۔گیارہ خدام ہمرکاب ایک خود حضرت سید نا خلیفہ المہدی وامسیح اور ایک فضل بہادر کے لئے۔سیدنا حضرت اقدس ٹھیک سوا آٹھ بجے اپنے کمرہ سے نیچے تشریف لائے اور خدام کو ہدایات دیں۔خان صاحب نیچے جا کر صاحب بہادر کے استقبال کی غرض سے کھڑے تھے۔قریب پندرہ منٹ لیٹ ہو کر ( ہماری گھڑی سے ) صاحب بہادر تشریف لائے۔حضور نے سیڑھیوں کے سرے پر ان کو ریسیو (Receive) کیا اور ہم میں سے ہر ایک سے انٹروڈیوس کرایا۔مصافحہ ساتھ