سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 70 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 70

مسلمانان حجاز کی سیاست اور طرز کی ہے ان کی سیاست سے چین کی مسلمان آبادی کو کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔علی ھذا مسلمان چونکہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں اور مختلف حکومتوں کے ماتحت ہیں لہذا ان کا سیاست کے لئے کسی ایک ہاتھ پر جمع ہو جانا ناممکن ہے۔البتہ مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ واقع میں اس کے لئے مسلمانانِ عالم ضرور ایک ہاتھ پر جمع ہو سکتے ہیں چنانچہ اس اصل کے ماتحت وہ اب سلسلہ کے مفصل حالات حافظ روشن علی صاحب سے معلوم کر رہے ہیں اور صبح سے ۱۲ بجے بلکہ ایک بجے کا وقت ہو گیا ہے وہ سلسلہ کی صداقت کے دلائل اور خصوصیات سن رہا ہے علیحدہ کمرہ میں۔اسی طرح سے بعض اخبارات کے مالک ایڈیٹر اور بھی حضرت کے حضور آئے اور خوب دیر تک باتیں کرتے رہے۔حالات معلوم کرتے رہے اور سمجھدار تعلیم یافتہ طبقہ میں اللہ کے فضل سے بڑی سرگرمی پائی جارہی ہے گو علماء کا پہلو زیادہ تر مخالفت کی طرف جھکتا نظر آتا ہے۔دمشق کے روزانہ اخبارات میں مضامین اور نوٹ اور مکالمات شائع ہونے شروع ہو گئے ہیں اور شہر میں ایک بچل ہے۔ہوٹل ہر وقت بھرا رہتا ہے۔ہوٹل کا مینجر ہجوم کی کثرت کا شا کی ہے اور کہتا ہے کہ اتنے لوگ ہوٹل میں جمع ہو جاتے ہیں میرے دوسرے مسافروں کو تکلیف ہوتی ہے۔آج اس نے کرسیاں اُٹھالی ہیں اور کہا ہے کہ روزانہ دس پونڈ ادا کرو تو رہو ورنہ اپنا انتظام اور جگہ کر لو۔ایک الگ کمرہ اسی ہوٹل میں ملاقات کی غرض سے لینا تجویز کیا گیا ہے اگر ممکن ہو سکا تو۔رات حضرت صاحب عشاء کی نماز کے بعد زاویۃ الہنود میں ان کے ذکر کا طرز دیکھنے کو تشریف لے گئے۔مثنوی رومی والے صاحب کی طرف وہ لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ان کے درویش بھی کثرت سے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔دمشق کا زاویہ ( تکیہ ) تمام شام میں بڑا ہے۔وہ اپنا ذکر تو کر چکے تھے مگر حضرت کی خاطر انہوں نے دوبارہ ذکر کرنے کا انتظام کیا۔حضور کا استقبال ان کے بڑے شیخ صاحب نے دروازہ پر کیا۔تھوڑی دیر ایک دالان میں بیٹھ کر مزاج پرسی ہوئی اور پھر مسجد میں تشریف لے گئے جس کے وسط میں ایک قبر تھی۔محراب میں ان کا بڑا شیخ بیٹھ گیا اور باقی درویش حلقہ بنا کر اس کے گرد جمع ہو گئے۔اللہ - اللہ اللہ کہنا شروع کیا۔اولاً بلا - بلا کی آواز لمبی معلوم ہوتی تھی بعد میں آہستہ آہستہ تدریجاً جلدی جلدی پڑھنے لگے آخر میں تو