سفر یورپ 1924ء — Page 57
۵۷ را گست ۱۹۲۴ء : رات کا کھانا کھا کر حضور نے نمازیں پڑھائیں اور آرام فرمایا اور پھر صبح کی نماز کے بعد لیٹ گئے۔۸ بجے کے قریب اُٹھے ناشتہ فرمایا اور پھر اہل دمشق کے نام ایک پیغام لکھنا شروع کیا جو حضور کی تحریر کے مطابق فل سکیپ کاغذ کے ۱۶ کالموں پر حضور نے ختم فرمایا۔فارم بیعت بھی ساتھ لگایا اور شیخ صاحب مصری کو ترجمہ کرنے کی غرض سے دیا جو بعد شام انہوں نے ختم کر لیا۔میں نے کوشش کی تھی کہ اصل مضمون پیغام کی نقل بھی کر کے بھیج دوں مگر ابھی چونکہ ترجمہ حضرت صاحب نے ملاحظہ نہیں فرمایا اصل کی ضرورت ہے مقابلہ مضمون کے لئے اس وجہ سے اصل مضمون میرے نقل کرنے کے لئے فارغ نہیں ہو سکا اور شاید اس ڈاک میں بھیجنے کے لئے نہ ہی مل سکے کیونکہ ڈاک آج شام یا کل صبح کو بند ہو جانے والی ہے۔سیدنا حضرت اقدس نے دو پہر کا کھانا کل اڑھائی بجے مضمون ختم کر کے نوش فرمایا۔کھانا کھا چکے تھے کہ اطلاع آئی کہ شیخ عبد القادر جیلانی کی اولاد کے ایک بزرگ حضور کی ملاقات کی غرض سے حاضر ہیں۔ان کے ساتھ ہی دمشق کے افسر خزانہ اور دو ایک اور سرکاری عہدے دار بھی حاضر تھے۔حضور نے ملاقات سنترال ہوٹل کے بالائی منزل کے ڈرائینگ روم کے جنوبی حصہ میں سیڑھیوں سے جانب غرب بیٹھ کر کی۔ان لوگوں نے بہت ہی شریفانہ طریق سے سوالات کئے اور جواب پا کر ادب اور احترام سے قبول کرتے رہے۔سلسلہ گفتگو قریب نصب گھنٹہ جاری رہا۔ایک صاحب بعد میں آئے ان کو علم نہ تھا کہ پہلے کوئی گفتگو ہو کر معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے انہوں نے کچھ تیزی اور سختی سے بعض سوالات کئے۔حضور نے جواب دیئے۔اس نے کہا کہ نبی اور رسول کی آمد کی کیا ضرورت پڑی ہے۔کیا کوئی فساد ہمارے کپڑوں اور لباس میں نظر آتا ہے یا اعمال اور کاروبار سے ظاہر ہوتا ہے؟ حضور نے فرمایا ظاہر نہیں بلکہ مسلمانوں کے دل بگڑ گئے ہیں۔عقائد بگڑ گئے ہیں۔شعائر اللہ کی عزت اور احترام باقی نہیں۔نماز کی پانبدی نہیں۔زکوۃ کی ادائیگی نہیں اور اسلام صرف نام و رسم کا باقی ہے۔اس پر اس شخص نے کہا کہ صرف دمشق کے ایک شہر میں ہم لوگ اتنی زکوۃ ادا کرتے ہیں کہ ۷۵ لاکھ روپیہ سالانہ جمع ہو جاتا ہے۔حضرت نے فرمایا کہ وہ تم اپنی خوشی سے نہیں دیتے وہ تو چھین کر تم سے لیا جاتا ہے اور اول تو میں یقین ہی نہیں کرتا کہ صرف ایک شہر میں اس قدر رو پیہ جمع ہوتا ہوا گر ایسا ہے تو پھر غربت کیسی ؟ اور کمزوری کے کیا معنی ہیں اور وہ روپیہ ہے کہاں؟