سفر یورپ 1924ء — Page 53
۵۳ ہوئے مسافر لوگ آخر پہاڑیوں کے پیچدار راستوں سے گزرتے دریائے بیرون اور یرموک کے پاس سے ہوتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محنتوں اور جانفشانیوں کے حالات کی یاد کو متحضر کرتے دعائیں کرتے اور درود پڑھتے ہوئے نکلتے گئے۔آخر گاڑی پہاڑیوں کی چوٹیوں سے اوپر کے میدان میں پہنچی جہاں کھلا اور ہموار میدان تھا۔پہلا بڑاسٹیشن جو میدان میں آیا اس کا نام درعا تھا جہاں فرنچ گورنمنٹ کی چھاؤنی اور غلہ کی بڑی بھاری منڈی تھی۔کھلے میدانوں اور دیہات کے مناظر کو دیکھتے اور جوار کے طول طویل کھیتوں کی سیر کرتے ہوئے دمشق کی طرف ہم لوگ بڑھتے چلے گئے۔شام ہو گئی اور پھر پہاڑیوں کا سلسلہ جاری ہو گیا جن میں سے نکل کر پھر گاڑی دمشق کی پہاڑیوں میں پہنچی۔سرسبز باغات ، چشموں اور آبشاروں سے گزرتے ہوئے آخر ساڑھے آٹھ بجے رات کو دمشق کے سٹیشن پر خلیفہ وقت اور اس کے خدام کو لے پہنچی۔دمشق میں ورود : دمشق کے اسٹیشن پر پہنچتے ہی لوگوں کا گھمسان ہو گیا۔حجاج چونکہ ان دنوں حج سے واپس آ رہے ہیں ان کے استقبال کے لئے ان کے عزیز اور رشتہ دار اسٹیشن پر موجود تھے۔بعض حاجی لوگ حج کے بعد مقامات مقدسہ کی زیارت کو بھی آتے ہیں ان کے لینے اور اپنے ہاں ٹھہرانے کی غرض سے دلال لوگ حاجی حاجی کرتے پھرتے اور اپنے مکانات پر لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔حاجیوں کے رشتہ دار آتے اور حاجیوں سے مل کر ایک دوسرے کے بوسے لیتے تھے۔یہ طریق بوسوں کا ہمیں تو بہت ہی مکر وہ نظر آیا۔واللہ اعلم بالصواب اس علاقہ کا رواج ہی کچھ ایسا ہے جسے دیکھ کر بھی گھن آتی ہے۔ہم لوگ جب سامان اُتار رہے تھے ایک صاحب پنجاب ضلع لدھیانہ کے رہنے والے حاجی عبداللہ کے نام سے مشہور جو اس علاقہ میں بیس سال سے رہتے ہیں اور حجاج اور زائرین کی خدمت کرتے ہیں ان کو ہمارا پتا کسی نے القدس سے لکھ دیا تھا وہ ہمارے پاس پہنچے اور اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ان سے ہوٹل وغیرہ کا کرایہ فیصلہ کرنا چاہا گیا مگر معلوم ہوا کہ وہ صرف کمیشن ایجنٹ ہیں یا حجاج سے کچھ بطور بخشش ان کو مل جاتا ہے ملازم ہوٹل نہیں ہیں۔خیر ان کی مدد سے سامان سٹیشن سے باہر نکلوایا گیا اور کشم پر لایا گیا۔سٹیشن کے ہال کا گنبد نہایت ہی شاندار