سفر یورپ 1924ء — Page 490
۴۹۰ اور خدا صرف ایک خدا ہے اس کو تو مان لیں گے۔فرشتوں کے وجود کا تسلیم کروانا آسان ہے جو بات ان کے تمدن میں دخل نہ دے وہ مذہب ہے اور جو اس حصہ سے تعلق رکھے جو ان کے تمدن میں دخل دے اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔مثلاً سود کے خلاف کہو تو وہ بول اُٹھیں گے۔عورتوں کے پردہ کے متعلق کہو تو نہ مانیں گے۔غرض جو بات ان کے تمدن کے خلاف ہو اس کا تو سننا بھی برداشت نہیں کر سکتے مگر ہم نے خدا کے فضل سے ان باتوں کو پیش کیا اور ایسے رنگ میں پیش کیا کہ ان لوگوں نے گردنیں ڈال دیں اور اقرار کیا کہ اب ہم نے علمی رنگ میں سمجھ لیا ہے کہ جو آپ کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے مگر ابھی ہم لوگ ملک کے رسوم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایک عورت لیکچر سن کر آئی کہ مجھے مومن بناؤ مگر ہم نے انکار کیا اور کہا کہ ابھی کتابیں پڑھو اور زیادہ غور کر لو۔بعض نے اخبارات میں ذکر پڑھ کر ہی ( دین حق ) پر آمادگی کا اظہار کیا مگر ہماری طرف سے ایسے لوگوں کو یہی جواب دیا جا تا رہا کہ ابھی تحقیق کرو۔ہم لوگ ایسے مومن چاہتے ہیں جو عملی مومن ہوں صرف نام جس کے ساتھ کوئی حقیقیت نہیں ہمارے کام کا نہیں۔اکثر لوگ ہمارے گھر آتے تھے۔ہماری مجالس میں آتے تھے۔ان کو کون لاتا تھا صرف خدا لاتا تھا۔خدا نے ایک جذب پیدا کر دیا تھا کہ لوگ کثرت سے آئے۔ان کے دلوں پر اثر ہوا اور وہ ( دین ) کے شیدائی ہو گئے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک بند تھا جس کو خدا نے ہمارے وہاں جانے پر تو ڑا اور اُٹھا دیا اور ایک ہوا چلا دی کہ لوگ کھچے چلے آتے تھے۔پس یہ جو کچھ ہوا اللہ کے فضل سے ہوا کہ ہر طبقہ کے لوگ آئے۔ملے اور غور وفکر کرنے کی طرف مائل ہوئے۔ہمارے نوجوانوں کی بات عزت اور محبت سے سنی اور اس وقت انگلستان میں ہزاروں ایسے آدمی ہیں کہ اگر چہ ہر بات میں ہمارے خلاف ہیں مگر وہ ہماری باتیں سنتے ہیں اور سننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ یہ قوم بڑھنے والی ہے۔اس بات کا پیدا ہو جانا کوئی چھوٹی بات نہیں۔در حقیقت یہی اصل اور پہلی سیڑھی ہے ترقی کی کہ خدا نے دنیا کی توجہ کو ہماری طرف پھر دیا اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ سوچیں اور غور کریں۔ایک کالج کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری آئے۔انہوں نے سوال کیا کہ آپ کو اس سفر میں کونسی کا میابی ہوئی ؟ میں نے ان سے کہا کہ دیکھو توجہ کا پیدا کر دینا یہ انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ خدائی فعل ہے کہ لوگ کسی امر کی طرف متوجہ ہوں اور ان کے دل اس طرف پھر جائیں کہ یہ لوگ