سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 487 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 487

۴۸۷ زیادہ سے زیادہ اس دنیا میں ایک خیالی فائدہ دے سکتے ہیں مگر ہمیں جو خزانہ ملا ہے وہ ہمیشہ رہنے والا اور اس زندگی اور بعد الموت کی حیات میں بھی کام آنے والا ہے۔ساری دنیا میں پھر جاؤ اور سارے جہان کو چھان مارومگر یہ نعمت دنیا کے کسی کونے میں نہ پاؤ گے جو خدا نے ہندوستان میں اپنے نبی اور رسول حضرت مسیح موعوڈ کی معرفت نازل فرمائی ہے اور جس کی حقیقتا ساری دنیا محتاج ہے۔دنیا سمجھے یا نہ سمجھے لوگ مانیں یا نہ مانیں آج نہیں تو کل ساری دنیا کے عقلمند اس اقرار پر مجبور ہوں گے کہ سوائے الہام الہی کے اور کلام خدا کے انسانیت اب اس گڑھے سے نکل نہیں سکتی جس میں وہ گر چکی ہے اور کھڑی ہو کر اور اُٹھ کر ترقی نہیں کر سکتی۔دنیا کی ترقی ، امن، صلح اور اطمینان کے لئے اب صرف ایک ہی راہ کھلی ہے جو کلام الہی کے رنگ میں خود خدا نے نازل فرمائی۔پس انسانیت کے اُٹھانے اور اُبھارنے اور بنی نوع انسان کو بچے امن اور حقیقی صلح کی طرف لانے کے لئے اب ہندوستان ہی ہے جو اگر دنیا کی مدد کرے تو کر سکتا ہے۔میں ان جذبات کو جن کی وجہ سے یہ چائے دی گئی ہے پسند کرتا ہوا اس امر کی تاکید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور تمام دنیا کے امن، صلح اور محبت کے قائم کرنے میں اس کی مدد کرے وغیرہ۔دوستوں کے خیر مقدم کے تار اور مبارک باد کے ایڈریس حضرت اقدس کے حضور پہنچ رہے ہیں اور سارے ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک خوشی کی ایک لہر خدا نے پیدا کر دی ہے۔حضرت اقدس اس وقت بازار تشریف لے گئے ہیں۔حضور کی صحت میں لنڈن کی نسبت بہت فرق ہے۔خصوصاً سمندری ہوا کا اچھا اثر ہوا ہے۔آج صبح کھانسی زیادہ تھی۔دعاؤں سے امداد کریں ورنہ صحت پر بہت گہرا اثر ہے اور لمبے آرام کی ضرورت۔میں آپ سب کے لئے دعاؤں کی درخواست کرتا رہا ہوں نہ کسی شاباش کی غرض سے نہ کسی اجر کے لئے بلکہ محض خدا کی رضا کے حصول کی نیت سے اللہ کا احسان ہے کہ حضور نے بھی ذرہ نوازی فرمائی اور میری درخواستوں کو توجہ سے سن کر دعائیں کیں۔میں آپ کو یقین دلانے اور ثبوت دینے کا کوئی ذریعہ بجز خدا کے نہیں رکھتا البتہ ایک فقرہ مجھے حضرت مولوی عبد السلام صاحب کی