سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 37 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 37

۳۷ ہو کر دعا دی۔” واہ اور حمدین! آخر کچھ کام آ ہی گیا اس سالن کے بعد پھر دوسرے جہازی سالن کیا مزہ دیتے۔اسی پر اکتفاء فرمائی۔عملہ جہاز کے افسروں اور مسافروں کی جس دعوت کی تجویز تھی وہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے یوں فیصل ہوئی ہے کہ صرف پلاؤ کی ڈش چند چیدہ لوگوں کو پہنچا دی جاوے اگر ضرورت مجھی گئی تو دوسرے دن کباب کی ڈش دے دی جاوے گی مگر یہ سب کچھ اس صورت میں ہو گا کہ برتن پکانے وغیرہ کے میسر آ جائیں۔عدن سے نکل کر دیکھا جاوے گا۔آج اس وقت کہ دو بجے ہیں ایک جہاز عدن کی طرف سے آتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔مسافرشوق سے دیکھتے ہیں۔دور بین ہاتھوں میں ہے۔بعض نے کیمرے بھی لے رکھے ہیں کہ پاس سے گزرتے ہوئے جہاز کے فوٹو لے لئے جائیں۔جھولا جھولنے کا فائدہ : اس سفر میں اللہ کریم نے مجھے خاص طور پر سی سک نس (Sea Sickness) سے محفوظ رکھا اور یہ محض اس کا فضل ہے ورنہ میں حقیقتا بہت ہی کمزور تھا اور مجھے اپنی طبیعت سے بہت اندیشہ تھا۔خدا کے فضلوں کے ساتھ ساتھ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بچپن میں جھولا جھولنے کی عادی طبائع بھی سی سک نس سے محفوظ رہتی ہیں اور بچپن کی اس عادت کا اثر بھی اس بیچاؤ میں گونہ مددگار ہوتا ہے۔لہذا چونکہ ہماری قوم کو اب انشاء اللہ جہازی سفروں کا کثرت سے موقع ملنے والا ہے کیونکہ حضور کا منشاء ہے کہ جہاز اپنے بنوائے جائیں تا کہ تجارتی اور تبلیغی اغراض میں معاون ہوسکیں ، اگر بچوں کو پینگ ( جھولا جھولنے کا عادی بنایا جاوے تو انشاء اللہ مفید ہو گا۔قادیان میں کئی درخت بڑ کے ہیں ان پر جھولے لگوا دینے چاہئیں اور ماسٹروں کی نگرانی میں خوب زور سے اس ورزش کی پابندی کرائی جانی چاہئیے۔آج مورخہ ۲۲ جولائی ۱۹۲۴ء کو اٹالین جہاز کے ڈاکٹر نے حضرت کا فوٹو لیا۔( صرف حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا ) اور دوسرا فوٹو خدام سمیت اسی کرسی پر لیا گیا۔ڈاکٹر کا نام ایر بلیو میگلی تھا۔فوٹو میں حسب ذیل خدام موجود تھے۔صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمہ ربہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، مولوی عبد الرحیم صاحب ،درد، چوہدری فتح محمد خان صاحب، شیخ