سفر یورپ 1924ء — Page 36
۳۶ با جماعت کھڑے ہو کر ادا کی۔یہ پہلی نماز ہے جو اس جہاز میں کھڑے ہو کر ادا کی گئی۔عدن ڈاکٹر جلال الدین صاحب کو ایک تار دیا گیا تھا وہ واپس آیا کہ ڈاکٹر صاحب عدن سے ہندوستان چلے گئے ہیں۔جہاز کے بعض نرخ : جہاز میں سوڈا واٹر کی کھاری بوتل ۶ / ( چھ آنے ) میں ایک چھوٹی سی ڈبل روٹی جس میں ایک تولہ مکھن لگا ہو ۱۲ ء میں ملتی ہے۔ایک چھوٹے کپڑے کی دھلائی مثلاً قمیص ۶ رفی عدد ہے۔شلواروں کی دھلائی غالبا گزوں کے حساب سے بہت بڑھ جائے گی۔ٹراؤزر کی دھلائی ہے۔الا مان ہم تو کپڑے دے بھولے۔سمندر کا پانی آج کا لا نہیں رہا بلکہ تیز نیلگوں ہے اور بہت ہی خوش منظر ہے۔جہاز کے اوپر کا حصہ جو سیکنڈ کلاس ڈرائینگ روم اور فرسٹ کلاس کینز کے درمیان ہے پہلے بالکل کھلا تھا آج اس کو سایہ دار بنا دیا گیا ہے جو ہوا کی کمی اور موسم کی گرمی پر دلالت کرتا ہے۔اس طرح سے آج ہمارے جہاز کا نقشہ بہت ہی خوبصورت اور فرحت بخش ہو گیا ہے۔بہت دوست دوستوں کو خط لکھ رہے ہیں۔چوہدری علی محمد صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے شرط کی ہے کہ کار ڈلکھیں گے اور بہت زیادہ دوستوں کو لکھیں گے خواہ صرف سلام ہی لکھیں مگر ہر سو قادیان میں چرچا پیدا کر دیں گے کہ چوہدری علی محمد صاحب کا خط آیا۔مولوی عبد الرحیم صاحب درد کا خط آیا - قلموں کی دوڑ ہے ہر ایک نے ایک کو نہ لے لیا ہے تا کہ اس کی توجہ میں خلل واقع نہ ہو۔میں ہوں اور میرا یہ ایک ہی خط۔اللہ کرے بہتوں کے لئے مفید اور بہتوں کے واسطے پیاس بجھانے والا ہو آمین اور اس کے ذریعہ سے میں بھی کسی کو یا د رہ سکوں دعاؤں میں۔رات حضور نے صرف تین گھنٹہ تک نیند فرمائی۔صبح کی نماز کے بعد برابر چار گھنٹہ تک حضور خطوط لکھتے رہے اور ۲۱ عدد خطوط لکھے تھے کہ طبیعت خراب ہو گئی۔تھوڑی دیر کے لئے حضور نے آرام فرمایا۔کھانا کھایا اور طبیعت صاف ہو گئی۔میاں رحمد دین صاحب جو کل تک بیمار تھے آج کچھ اچھے ہیں چنانچہ آج کی ہانڈی انہوں نے خود ہی پکائی ہے۔حضور کی خدمت میں کچھ تو سالن بھیجا گیا۔حضور نے نوش فرمایا اور خوش