سفر یورپ 1924ء — Page 463
۴۶۳ ( مین Intellect) اور اس کے ذریعہ سے ہی انسان روحانی تعلیم حاصل کرتا ہے۔کیا جس طرح ایک بچے کو ایک حکم بلا دلیل دیا جاتا ہے اسی طرح بڑے آدمی کو بھی بلا دلیل حکم دے سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔ایک بچے سے آپ امید رکھتے ہیں کہ بلا دلیل آپ کا حکم مان لے۔اس کو آپ یہ سمجھانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے کہ اس کام کے کرنے میں کیا فائدہ نہ کرنے میں کیا نقصان ہے۔کیا اس طرح سے بڑے آدمی سے بھی سلوک کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں وغیرہ وغیرہ۔مکرمی نیر صاحب نے تو مجھے اس قدر لکھایا ہے مگر جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جو کچھ زبانی سنایا تھا وہ کچھ زیادہ بھی تھا اور فصیح و بلیغ بھی۔آخر میں لیڈی صاحبہ کی خواہش پر حضرت اقدس کے حکم سے حافظ صاحب نے کچھ قرآن کریم اور پھر مثنوی رومی کے چند اشعار سنائے۔اس ملاقات کا گہرا اثر معلوم ہوتا تھا۔بہر حال غالباً شیخ یعقوب علی صاحب نے کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے۔ان کے پاس مفصل نوٹ ہیں وہ صاف کر کے اخبار میں بھیجیں گے۔مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ اس صحبت میں سوال و جواب نہایت عالمانہ رنگ کے تھے مگر مجھے جو لکھائے گئے ہیں وہ تو بالکل یہی ہیں۔خیر مجھے جو کچھ پہنچا میں نے لکھ دیا۔کھانا حضور نے نمازوں سے پہلے تناول فرمایا اور پھر نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔لیڈی ٹین نے حضور کا شکریہ ادا کیا اور پھر ملاقات کی خواہش کرتے ہوئے رخصت ہوئی۔نمازوں سے پہلے حضور کچھ دیر تک اِدھر اُدھر ٹہلتے رہے اور حافظ روشن علی صاحب سے چین کے ملک میں تبلیغ کے متعلق ذکر کرتے رہے جہاں عیسائیوں نے بڑا جال پھیلا دیا ہے اور سنا گیا ہے کہ ایک ایک دن میں بعض جگہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ عیسائی ہوئے ہیں۔حضور نے یہ بھی فرمایا کہ مغرب الشمس کے سفر سے تو اب ہم فارغ ہوئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اب ہمیں مطلع الشمس کی طرف بھی جانا پڑے گا اور چین، جاپان اور امریکہ تک کا اکٹھا سفر کرنا پڑے گا۔بہر حال جماعت کو اب چین کی طرف رخ کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔۱۴/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہ لا سکے رات بھی طبیعت کسی قد ر خراب رہی۔