سفر یورپ 1924ء — Page 444
۴۴۴ میں تشریف لے گئے اور پھر دیر بعد واپس چبوترہ پر تشریف لائے۔ناشتہ فرمایا اور چونکہ آج حضرت میاں صاحب اُترنے والے ہیں اس وجہ سے غالبا ان کے لئے کچھ ہدایات لکھ رہے ہیں مگر حضور نے کئی ایک الگ الگ لفافے لکھے ہیں نہ معلوم کیا ہے۔بہر حال وہ ہیں میاں صاحب ہی کے لئے۔تختہ جہاز پر نوٹس لگ گیا ہے کہ پورٹ سعید ڈیڑھ بجے پہنچے گا۔بعض جہاز قرب ارض مصر کی وجہ سے آتے جاتے نظر آتے ہیں کہیں کہیں خشکی اور چٹانیں بھی دکھائی دینی شروع ہوئی ہیں۔دو پہر کے کھانے کی گھنٹی ذرا سویرے بجائی گئی ہے۔ہم لوگ بھی آج اس خیال سے کہ پورٹ سعید اُترنا ہوگا کھانے سے ذرا جلدی ہی فارغ ہو چکے ہیں۔جمعہ کا دن بھی ہے مگر جمعہ تو پڑھا نہیں جائے گا۔ایک دقت اور آن پڑی ہے۔ہما را چبوترہ جو ایک ہولڈ کے اوپر ہے اس میں سے بعض سامان نکال کر جہاز والے پورٹ سعید اُتاریں گے اس کے لئے ہمیں بھی اپنا تمام سامان اٹھانا اور پھر دوبارہ لگانا پڑے گا۔پورٹ سعید آ گیا۔کشتیاں اور موٹر لانچ ساتھ ساتھ دوڑ رہے ہیں۔کنگ کا بھی ایک موٹر لانچ آیا ہے اس میں ہماری ہندوستانی ڈاک کے بنڈل رکھے نظر آتے ہیں۔لگ والوں سے پوچھا گیا۔ٹھیک نکلا ہمارا خیال کہ وہ ڈاک سیدنا حضرت فضل عمر ہی کی ہے۔جہاز ٹھہرے گا تب ملے گی اور اس طرح دار الامان کی خبریں اور حالات معلوم ہوں گے۔خدا تعالیٰ خیر کی خبر سنائے۔جہاز ٹھہر گیا ہے۔ڈاک او پر آ گئی ہے۔مجھے اور بعض دوستوں کو الگ الگ بذریعہ ڈاک آنے والے خطوط مل گئے ہیں۔حضور کی ڈاک ابھی خان صاحب کے پاس ہے وہ لے کر حضور کے کمرہ میں گئے ہیں مگر حضرت ہمارے ساتھ ہیں۔حضور کی ڈاک بھی آگئی ہے مگر شیخ محمود احمد صاحب نظر نہیں آتے۔حضور نے ڈاک میں سے پہلے تاریں نکالی ہیں پانچ یا چھ تار ہیں۔(1) شیخ محمود احمد کا تارہے کہ ٹرین سے رہ گیا اب سویز ملوں گا انشاء اللہ تعالیٰ۔(۲) مولوی عبدالرحیم صاحب درد کا تار ہے کہ لنڈن پہنچ گیا ہوں اور احکام کی تعمیل مطابق