سفر یورپ 1924ء — Page 437
۴۳۷ میں درخواست کر رہے تھے۔ان لوگوں میں سے بعض پر پورا اور گہرا اثر ہوا۔مثال کے طور پر حضور کی گفتگو میں سے ایک فقرہ عرض کرتا ہوں۔ان میں سے ایک نے کچھ اعتراض کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کی ترقی کوئی غیر معمولی ترقی نہیں ہے اور بھی کئی لوگ ایسے دنیا میں موجود ہیں جن کو ایسی یا اس سے بھی زیادہ کامیابی اور ترقی ملی ہے۔اس پر حضور اس کو جواب دینے کے لئے بولنے ہی کو تھے کہ ایک صاحب نے عرض کیا حضور تکلیف نہ فرمائیں اس کا میں ہی جواب دوں گا اور جواب دیا جو ہمیشہ حضور اپنی گفتگو میں ایسے سوالات کا دیا کرتے ہیں کہ تم کوئی ایسی جماعت یا سلسلہ یا شخصیت پیش کرو جس نے زمانہ کی رفتار کے خلاف آواز اُٹھائی ہو اور اس کو اس طرح کامیابی ہوئی ہو جو سلسلہ احمدیہ کو زمانہ کی رو اور رفتار کے خلاف تحریک کر کے ہوئی ہے؟ جن لوگوں یا سلسلوں کا آپ نے نام لیا ہے وہ سارے کے سارے وہی بات کہتے ہیں جو یورپ آج کل دنیا میں پھیلا رہا ہے۔یورپ کے تمدن کے سامنے سر جھکانا اور اس کی رو میں بہتے جانا پھر دعویٰ کرنا کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ہم نے جماعت پیدا کر لی وغیرہ وغیرہ۔یہ جواب ان لوگوں میں سے ایک صاحب نے فوری دیا جس سے معترض ساکت ہو گیا اور حضور خوش ہوئے اور اس شخص کی ذکاوت اور عقلمندی اور فراست و فہم کی حضور نے تعریف فرمائی۔اس جہاز میں بڑے بڑے لوگ سفر کر رہے ہیں۔بعض تجار ہیں ایک کلکتہ کا تاجر ہے۔حضور نے اس کو بھی تبلیغ کی اور وہ بہت محبت سے پیش آتا ہے اور لٹریچر مطالعہ کر رہا ہے۔بعض کو حضور خود تبلیغ فرماتے ہیں اور باقی لوگوں کو سمجھانے کے لئے حضور نے سیکنڈ کلاس دوستوں کو حکم دیا ہے کہ ان سب کو الگ الگ ملیں اور سمجھدار لوگوں کو تقسیم کر کے تبلیغ کرتے رہیں۔لٹریچر پڑھنے کو دیں چنانچہ جہاز میں بھی سلسلہ تبلیغ خدا کے فضل سے جاری ہے اور اس طرح سے سفر نہایت اچھی طرح کامیابی سے طے ہوتا جا رہا ہے۔اب ہماری نماز کا رخ جنوب مشرق کی طرف ہے اور سب نمازیں کھڑے ہو کر ادا کی جاتی ہیں۔سمند رسا کن ہے ورنہ یہ نعمت جہاز کے سفر میں کہاں میسر تھی۔۵ / نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز حضور نے خود پڑھائی۔گو حرارت رہی مگر نماز میں تشریف لے