سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 32 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 32

۳۲ رہا تھا۔دولوٹے ٹین کے جو امرتسر سے وضو وغیرہ کی غرض سے خرید کئے گئے تھے اور جہاز میں وہ دوستوں کے اُٹھ نہ سکنے کی وجہ سے کارِ خاص میں بہت معاون ہوئے تھے۔( دوست اپنی جگہ سے اٹھ کر پیشاب کرنے کی بھی طاقت نہ رکھتے ہوئے ان لوٹوں ہی میں پیشاب کرتے تھے جس کو پنجروں کی نظر بچا کر دور پھینکنا پڑتا تھا ابھی محفوظ تھے۔ان کے متعلق دوستوں سے اجازت حاصل کی کہ اگر ان کی اب ضرورت نہ ہو تو سمندر کی نذر کر دیئے جائیں تا کہ میلا کچیلا سامان اب آنکھوں سے اوجھل ہو۔دوستوں نے بہت ہی سوچ بچار کے بعد اجازت دی کہ ان کو سمندر میں پھینک دیا جاوے۔اس سے پہلے دو تین ٹوکریاں پرانی مٹھائی کے بقیہ کی جو سمندر کے پانی کی ملاوٹ کی وجہ سے خراب ہو چکی تھیں ہمارے ڈاکٹر صاحب کے معائنہ کے بعد صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمہ ربہ نے نذرسمندر کی تھیں جو سمندر میں تیرتی رہیں۔ایک نکتہ معرفت : لوٹے جب میں سمندر میں پھینکنے لگا تو حضرت میاں صاحب نے فرما یا بھائی جی شرط یہ ہے کہ ڈو میں نہیں تیرتے رہیں۔مگر وہ لوٹے تھے ٹونٹی دار کیوں کر تیر سکتے تھے۔جاتے ہی سمندر کی تہ کی طرف دوڑے۔حضرت میاں صاحب نے آواز دی بھائی جی کیا ہوا ؟ اتنے میں سیدنا حضرت خلیفہ اسی تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے۔میرا خیال سمندر کی طرف تھا اور لوٹوں کی طرف نظر تھی۔میں نے حضور کو تشریف لاتے نہ دیکھا تھا۔میں نے اپنے خیال میں حضرت میاں صاحب کے سوال کا جواب دیا اور عرض کیا کہ میرے ڈبوئے بھلا بیچ سکتے ہیں۔لوٹ کر دیکھا تو حضور تشریف فرما تھے۔حضور نے بھی معاً مجھے مخاطب فرما کر کس پیار بھرے لہجہ میں ، کس محبت بھری ادا، کسی شفقت بھری آواز سے فرمایا بھائی جی ڈبونا اچھا ہے یا تیرا نا؟ ان الفاظ میں کیا کچھ بھرا ہوا تھا اس کا اندازہ اہل دل احباب اپنے اپنے ذوق کے مطابق کر سکتے ہیں اور میں اس حصہ کو انہی کے لئے چھوڑ کر آگے چلتا ہوں۔یہ سریلی اور دلکش آواز کم کسی نے سنی ہوگی اور میں جانتا ہوں کم ہی کوئی سنے گا۔میں نے سنی دل میں لی اور انشاء اللہ اس دنیا میں بھی اور بعد الموت بھی مجھے یہ لذت اور سرور دیتی ہی رہے گی۔