سفر یورپ 1924ء — Page 398
۳۹۸ ہو کر آگئے ہیں اور انشاء اللہ آج رات اور کل صبح ان میں سامان بند کر دیا جاوے گا۔مکرمی ملک غلام فرید صاحب نے آخر اپنی بیوی کو تسلی دلا سا دے کر سمجھا ہی لیا ہے۔وہ کل یہاں سے شام کو غالبا روانہ ہو جائیں گے۔مارسلز تک ریل سے اور پھر جہاز پر سوار ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان کو بخیریت پہنچائے۔حضور نے نہایت محبت سے ان کو تیاری کا حکم دیا۔شیخ یعقوب علی صاحب اور چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے کو حضرت اقدس نے سفراء کے ملنے کو بھیجا تھا۔آج چین کے سفیر سے ملاقات کو گئے تھے۔وہ مذہبی آدمی نہیں مگر تا ہم دوستوں نے اس کو سلسلہ کے حالات اچھی طرح سے سنائے اور خوب تبلیغ کی۔بڑی توجہ سے سنتا رہا۔اس سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ہمارے سلسلہ سے واقف ہیں تو کہا ”ہاں ہاں خلیفتہ اسیح ، ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کا نام تو ہر جگہ پہنچ چکا ہے۔جاپان کے سفیر نے ملاقات کے لئے بدھ کا دن دیا ہے اور ایرانی سفیر نہ معلوم کیا بات ہے ملاقات کا وعدہ کر کے پھر نہ آیا۔بیمار بن بیٹھا۔پھر لکھا گیا تو شکر یہ ہمدردی کا ادا کر دیا ہے۔ملاقات کا نام نہیں لیتا غالبا کابل سے وابستگی ہوگی ورنہ ایسی تنگدلی کسی اور نے نہیں دکھائی۔کیوں نہ ہو مسلمان کہلاتے ہیں نا۔شام کی نماز انتظار کر کے پڑھی گئی ہے مگر حضورا بھی تک واپس تشریف نہیں لائے۔حضور آٹھ بجے کے بعد تشریف لائے کھانا کھایا اور اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے اور نماز شام اور عشاء کوئی گیارہ بجے کے قریب دونوں جمع کر کے پڑھا ئیں اور پھر جلدی ہی تشریف لے گئے۔میں نے کوشش کی تھی کہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے ارشاد کی تعمیل ملاقاتیوں کی گفتگو کا خلاصہ بھی دے دوں مگر ہو نہیں سکتا بلکہ خوف ہے کہ اس کوشش میں جو کچھ تھوڑا بہت پیش کر سکتا ہوں رہ نہ جائے۔۱۴ اکتوبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضرت اقدس تشریف نہیں لائے۔ناشتہ فرمایا اپنے کمرہ میں اور ساڑھے دس بجے گھر سے ڈاکٹر صاحب سمیت بازار تشریف لے گئے اور شام کی اذان کے