سفر یورپ 1924ء — Page 387
۳۸۷ تا کہ حقیقی ( دین ) کو قائم کریں اور اس بچی روح کو دلوں میں پیدا کریں جس کے بغیر کوئی مذہبی ترقی ہو نہیں سکتی۔پس چونکہ آپ نبی تھے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے ذریعہ سے ایک نئی جماعت بنائی جاتی جس طرح کہ ہمیشہ سے نبیوں کے زمانہ میں نئی جماعتیں بنائی جاتی رہی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں دین کی ترقی حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ وابستگی کے ساتھ معلق کر دی ہے اور اس سلسلہ کے بغیر ( دین ) کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ہے۔انسانی عقل انہی واقعات کے متعلق سوچ سکتی ہے جن کے سب اسباب سامنے موجود ہوں مگر خدا تعالیٰ اس غیب سے واقف ہے جس تک انسان کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔اس لئے فیصلہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔اے ہمشیرگان و برادران ! آپ لوگوں نے اس مذہب کو چھوڑ کر جس پر آپ کے باپ دادا چل رہے تھے ایک نئے مذہب کو اختیار کیا ہے۔آپ کی یہ قربانی قابل قدر ہے مگر آپ کو معلوم ہے کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام کے معنی کامل طور پر سپر د کر دینے کے ہیں اور جب تک کہ انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے کامل طور پر سپردنہیں کرتا وہ نام ہی کا مسلم ہوتا ہے حقیقت میں مسلم نہیں ہوتا مگر کیا نام حقیقت کے مقابلہ میں کوئی قیمت رکھتا ہے؟ کوئی نام نفع نہیں بخشتا جب تک اس کے ساتھ حقیقت بھی نہ ہو۔پس جب کہ خدا تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس وقت وہ ان لوگوں کے ذریعہ سے ( دین ) کو فتح اور غلبہ دے جو احمد بیت سے منسوب ہیں تو پھر اگر ہمارا یہ دعویٰ کہ ہم خدا تعالیٰ کو سب کچھ سپر د کر چکے ہیں سچا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہیں جو اس زمانہ میں بلند کی گئی ہے۔تمام نبی اس لئے عزت کے مستحق ہوتے ہیں کہ وہ اس ہستی کی طرف سے آتے ہیں جو کبھی غلطی نہیں کرتی۔اگر نوح کے زمانہ میں نوح کی آواز پر لبیک کرنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بولتا تھا۔اگر ابراہیم کے زمانہ میں ابراہیم کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بولتا تھا۔اگر موسی کے زمانہ میں اور پھر مسیح کے زمانہ میں ان کی آواز پر لبیک کہنا ضروری تھا تو صرف اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بلائے سے بولتے تھے