سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 369 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 369

۳۶۹ بھی فوجی رنگ ہی رکھتے ہیں اور یہ رنگ ایک نمایاں پہلو لئے ہوئے نظر آ رہا ہے۔کس۔سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا۔خدا ہی جب کھولے گا کھلے گا۔) یہ معلوم کر کے کہ حسن نظامی نے بڑی چیخ پکار کی ہے کہ احمد یوں کو کیا حق حاصل ہے کہ تصوف پر بھی وہی لیکچر دیں گویا دشمن تصوف سے تصوف کی تفصیل و تشریح کرائی جاتی ہے مگر باوجود اس کی کوششوں کے خدا نے ہمیں کامیاب کیا۔لیکچر پڑھا گیا اور اس کی بھی دھوم مچ گئی۔ان فقیر اور ملنگوں کو معلوم ہی کیا کہ تصوف ہوتا کیا ہے۔حضور کا مضمون شائع ہوگا تو دیکھیں گے کہ تصوف نام کس چیز کا ہے۔( مضمون در حققت حضرت ہی کی طرف سے تھا کیونکہ حضور ہی کے نوٹوں اور ہدایات سے یہ مضمون لکھا گیا ہے۔حافظ صاحب نے جولکھا تھا وہ اور تھا ) خدا نے کانفرنس ہی ہماری بنادی۔جلسہ ہی سارا ہمارا کر دیا۔جس کو پسند نہیں وہ روتا رہے اور سر پیٹتا ر ہے۔جب یہاں کے مفصل حالات پڑھے گا تو شاید اس کو اور بھی ماتم پڑ جائے۔افسوس ان لوگوں کے حسد کی آگ اسلام کی تائید ہوتے بھی نہیں دیکھ سکتی۔اللہ رحم کرے۔حضرت کا ایک پولیٹیکل لیکچر ڈلج میں ہوا تھا جس کے مفصل حالات اپنے خط میں تو لکھ چکا ہوں اور مضمون بھی درج کر دیا ہے مگر میں نے اسی رات کو ایک تار تیار کرایا تھا کہ آپ کی معرفت قادیان کے احمدیوں اور اخبار کی معرفت دنیا کے احمدیوں کو پہنچا دوں مگر حضرت نے کسی مصلحت سے مجھے اس تار کے بھیجنے کی اجازت نہ دی۔میں نے حضرت کے حضور عرض کیا تھا کہ حضور قادیان کے احمدیوں کا میرے ذمہ ایک قرضہ ہے۔حضور ا جازت دیں تو ادا ہوسکتا ہے اور وہ تار میں نے حضرت کے ہاتھ میں دے دیا۔حضور نے پڑھا اور فرمایا کہ قرضہ کیسا میں سمجھا نہیں۔میں نے عرض کیا حضور ہی کی معرفت مجھے ایک تار احمدیان قادیان نے بھیجا تھا وہی قرضہ ہے۔حضور بہت ہنسے اور فرمایا اچھا وہ قرضہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اچھا فرما دیا مگر میں نے عرض کیا کہ حضور اس تار میں اگر کچھ کمی یا بیشی کرنی ہو تو فرما دیں۔تب فرمایا اچھا پھر سوچ کر بتاؤں گا اس وقت میری طبیعت صاف نہیں مگر پھر وہ موقع ہی نہیں ملا کہ حضور بتا ئیں اس وجہ سے تاررہ گیا۔تار کا مضمون بھی اس خط میں بھیجتا ہوں۔حافظ روشن علی صاحب کو خط آنے شروع ہو گئے ہیں کہ ہم تصوف کے متعلق مطالعہ کر رہے ہیں۔علم کو بڑھانا چاہتے ہیں آپ ہمیں شاگرد اور مرید بنالیں۔آپ کے معلومات سے ہمیں بڑا