سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 361 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 361

۳۶۱ ہوتا ان کے لئے سودا لا دیتے۔پھر باوجود ان سب کاموں کے کبھی بچوں کے اندر قو می روح پیدا کرنے کے لئے ان میں جا کر شامل ہو جاتے اور ان کو ان کی کھیلوں میں جوش دلاتے۔جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں سے مل کر گھر کا کام کرنے لگتے اور جب رات ہوتی اور سب لوگ آرام سے سو جاتے تو آپ آدھی رات کے بعد اُٹھ کر رات کی تاریکی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاتے یہاں تک کہ بعض دفعہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے۔جو مذہبی تعلیم آپ دیتے تھے اس کا خلاصہ یہ تھا۔(1) آپ اس تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے باقی جو کچھ بھی فرشتے خواہ انسان سب اس کی مخلوق ہیں۔یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی بہتک ہے کہ وہ انسان کے جسم میں آ جاتا ہے یا اس کی کوئی اولاد ہوتی ہے یا وہ بتوں میں داخل ہو جاتا ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے۔وہی زندہ کرتا ہے اور جس قدر مصلح گزرے ہیں سب اس کے بندے تھے کسی کو الوہیت کی طاقتیں حاصل نہ تھیں۔سب کو اس کی عبادت کرنی چاہیے اور صرف اس سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔اسی پر اپنے تمام کاموں میں بھروسہ رکھنا چاہیے۔(۲) یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں کو ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی اور اخلاقی اور تمدنی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے۔وہ ہمیشہ دنیا میں اس غرض کو جاری رکھنے کے لئے نبی بھیجتا رہا ہے اور ہر قوم میں بھیجتا رہا ہے۔آپ اس امر کے سخت مخالف تھے کہ نبوت کو کسی ایک قوم میں محدود رکھا جائے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ پر جانب داری کا الزام آتا ہے جس سے وہ پاک ہے اور دنیا کی ہر قوم کے نبیوں کی تصدیق کرتے تھے۔(۳) آپ اس امر پر زور دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ کی ضروریات کے مطابق اپنا کلام نازل کرتا رہا ہے اور آپ کا دعویٰ تھا کہ آخری زمانہ کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور اس بنا پر آپ قرآن کریم کو سب پہلی کتابوں سے مکمل سمجھتے تھے اور اس کی تعلیم کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔(۴) آپ کو یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی ہستی کا یقین دلانے کے لئے ہمیشہ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور ان کے لئے نشان دکھاتا رہتا ہے اور آپ دعویٰ کرتے تھے کہ جو لوگ بھی آپ کی