سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 360 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 360

لئے تو ان پر ناراض نہ ہو اور ان پر عذاب نہ کر بلکہ ان کو سچائی کے قبول کرنے کی توفیق دے۔دیکھیں تکلیف کے وقت میں کیسے محبت سے بھرے ہوئے الفاظ کہے گئے ہیں۔کیا ان سے بڑھ کر انسانی ہمدردی کی مثال کہیں مل سکتی ہے؟ سچ چھپا نہیں رہتا۔آپ کی تعلیم کی خبریں باہر مشہور ہو ئیں اور یثرب نامی ایک شہر کے لوگ ( جسے اب مدینہ کہتے ہیں ) حج کے لئے مکہ آئے تو آپ سے بھی ملے۔آپ نے ان کو اسلام کی تعلیم دی اور ان لوگوں کے دلوں پر ایسا گہرا اثر کیا کہ انہوں نے واپس جا کر اپنے شہر کے لوگوں سے ذکر کیا اور ستر آدمی دوسرے سال تحقیق کے لئے آئے جو سب اسلام لے آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ آپ ان کے شہر میں چلے جائیں مگر آپ نے اس وقت ان کی بات پر عمل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ہاں وعدہ کیا کہ جب ہجرت کا موقع ہوگا آپ مدینہ تشریف لائیں گے۔جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اب باہر بھی آپ کی تعلیم پھیلنی شروع ہوئی ہے تو انہوں نے ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی چُنا تا کہ سب مل کر آپ کو رات کو قتل کر دیں اور یہ اس لئے کیا کہ اگر آپ کی قوم اس کو نا پسند کرے تو وہ سب قوموں کے اجتماع سے ڈر کر بدلہ نہ لے سکیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بتا دیا تھا۔آپ اسی رات مکہ سے نکل کر ابو بکر کو ساتھ لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے جہاں کے لوگوں پر اسلام کی تعلیم کا ایسا اثر ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں قریباً سب مدینہ کے لوگ اسلام لے آئے اور آپ کو انہوں نے اپنا بادشاہ بنالیا اور اس طرح وہ کونے کا پتھر جسے اس کے شہر کے معماروں نے رڈ کر دیا تھا مدینہ کی حکومت کا تاج بنا۔اس ترقی کے زمانہ میں بھی آپ نے اپنا شغل تعلیم اور وعظ ہی رکھا اور اپنی سادہ زندگی کو کبھی نہیں چھوڑا۔آپ کا شغل یہ تھا کہ آپ لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی تعلیم دیتے۔اخلاق فاضلہ اور معاملات کے متعلق اسلامی احکام لوگوں کو سکھلاتے۔پانچ وقت نماز خود آ کر مسجد میں - پڑھاتے۔( مسلمانوں میں بجائے ہفتہ میں ایک مرتبہ عبادت کرنے کے پانچ دفعہ ہر روز مسجد میں جمع ہو کر عبادت کی جاتی ہے ) جن لوگوں میں جھگڑے ہوتے آپ فیصلہ کرتے۔ضروریات قومی کی طرف توجہ کرتے جیسے تجارت ، تعلیم ، حفظان صحت وغیرہ اور پھر غرباء کے حالات معلوم کرتے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے حتی کہ جن لوگوں کے گھروں میں کوئی سودا د ینے والا نہ