سفر یورپ 1924ء — Page 359
۳۵۹ کھانے پینے کی چیز فروخت نہ کرے اور نہ ان سے شادی بیاہ کا تعلق کیا جاوے اور نہ ان سے کبھی صلح کی جائے جب تک وہ آپ کو قتل کے لئے نہ دے دیں۔مکہ ایک اکیلا شہر ہے۔اس کے اردگرد چالیس میل تک کوئی شہر نہیں۔پس یہ فیصلہ سخت تکلیف دہ تھا۔مکہ والوں نے پہرے لگا دیئے کہ کوئی شخص ان کے ہاتھ کوئی کھانے کی چیز فروخت نہ کرے اور برابر تین سال تک اس سخت قید میں آپ کو رہنا پڑا۔راتوں کے اندھیروں میں پوشیدہ طور پر جس قدر غلہ وہ داخل کر سکتے تھے کر لیتے تھے مگر پھر بھی اس قدرنگرانی میں وہ لوگ کہاں تک انتظام کر سکتے تھے۔بہت دفعہ کئی کئی دن جھاڑیوں کے پتے اور شاخوں کے چھلکے کھا کر ان کو گزارا کرنا پڑتا تھا۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ ان تکلیف کے دنوں میں سب کی صحبتیں خراب ہو گئیں اور بہت دست لگ گئے۔ہفتہ نہیں دو ہفتہ نہیں تین سال متواتر وہ بہی خواہ بنی نوع انسان اپنے ماننے والوں کے ساتھ صرف اس لئے دکھ دیا گیا کہ وہ کیوں خدائے واحد کی پرستش اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے مگر اس نے ان تکالیف کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔تین سال کی متواتر تکلیف کے بعد بعض رؤسا مکہ کی انسانیت اس ظالمانہ فعل پر بغاوت کرنے لگی اور انہوں نے اس معاہدہ کو جو رسول کریم کے خلاف کیا گیا تھا چاک کر دیا اور آپ اس وادی سے نکل کر باہر آگئے مگر آپ کے بوڑھے چچا اور وفادار بیوی ان صدمات کے اثر سے نہ بچ سکے اور کچھ دنوں کے بعد فوت ہو گئے۔اہل مکہ کی بے پروائی کو دیکھ کر آپ نے عرب کے دوسرے شہروں کی طرف توجہ کی اور طائف کے لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی دعوت دینے کے لئے تشریف لے گئے۔طائف مکہ سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر ایک پرانا شہر ہے۔اس شہر کے لوگوں کو جب آپ نے خدا کا کلام سنایا تو وہ مکہ والوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوا۔پہلے انہوں نے گالیاں دیں پھر کہا شہر سے نکل جاؤ۔جب آپ واپس آ رہے تھے تو بدمعاشوں اور کتوں کو ان کے پیچھے لگا دیا۔پتھر پر پتھر چاروں طرف سے آپ پر پڑتے تھے مگر اس وقت ان ظالموں کی نسبت جو خیالات آپ کے دل میں موجزن تھے وہ ان الفاظ سے ظاہر ہیں جو اس سنگساری کے وقت آپ کی زبان پر جاری تھے۔آپ خون اپنے جسم سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اے خدا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ میں جو کچھ ان لوگوں کو کہتا ہوں وہ سچ ہے اور درست ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اچھا سمجھ کر کر رہے ہیں اس