سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 26 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 26

۲۶ صاحب کہلانے لگے۔واپسی کے متعلق حضور نے گل باتوں باتوں میں ذکر فر مایا کہ انشاء اللہ ۲۰ نومبر قادیان پہنچ جائیں گے۔فرمایا پہلے سی سک نس Sea Sickness) تھی۔اب ہوم سک نس (Home Sickness) شروع ہو گئی ہے۔ہر وقت خیال قادیان ہی کا رہتا ہے چنانچہ حضور نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی نظم کے جواب میں ایک نظم لکھی ہے جو ریل میں سنائی تھی اس میں حُبّ قادیان کا جس قدر ذکر ہے اس کا اندازہ آپ لوگ کر سکتے ہیں غالبا اس خط پہنچنے تک وہ شائع ہو چکی ہوگی۔حضور کے دل میں قادیان اور جماعت قادیان کی جو محبت ہے اس کا اندازہ حروف اور الفاظ ہرگز ہر گز نہیں کر سکتے۔کچھ نقشہ اس کا حضور کے اس تار سے معلوم ہوسکتا ہے جو حضور نے بمبئی سے روانگی سے قبل اپنے ہاتھ سے لکھ کر صاحبزادہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب سلمہ رتبہ اور حضرت مولوی شیر علی صاحبان کی معرفت جماعت کو پہنچایا تھا۔کیا ہی دردناک الفاظ اور کیا ہی پیار سے بھرے ہوئے الفاظ ہیں وہ سب خود حضرت نے اپنے دل سے اور اپنے قلم سے لکھے تھے جو خاصہ ایک مضمون تھا اور یقیناً اس کا ترجمہ شائع ہو کر آپ لوگوں تک پہنچ چکا ہوگا۔حضور سفر یورپ کا ارادہ کر چکے تھے اور تشریف لے جا رہے ہیں۔مگر یا درکھیں کہ خالصاً لِوَجْهِ الله دل حضور کا قادیان میں ہے اور قادیان کی جماعت کے ساتھ۔یہ مشکلات جو حضور کو اس سفر میں نظر آئے ہیں حضور سے پہلے پوشیدہ نہ تھے۔سفر کرنے والوں سے زیادہ ان کا علم حضور کو تھا مگر با وجود ان کے جاننے کا حضور نے سفر کیا اور ولایت تشریف لے جا رہے ہیں جو محض ابتغاء لِوَجْهِ اللہ اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے ہے ورنہ اگر ضروریات دین اس سفر کے لئے حضور کو مجبور نہ کرتیں حضور ہرگز اس سفر کو ان ایام میں گوارا نہ فرماتے۔ہمارے جہاز کے متعلق پہلے خیال تھا کہ پانچ دن میں عدن پہنچے گا۔طوفان کی وجہ سے راستہ میں آکر معلوم ہوا کہ سات دن میں پہنچے گا مگر اب کل کپتان نے بتایا کہ غالبا بدھ کو پہنچے گا یعنی قریبا نو دن کے بعد۔