سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 25 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 25

۲۵ بدولت نصیب ہے اس کا اندازہ نہیں البتہ ایک مثال سے شاید سمجھ میں آ سکے۔ایک ہندو طالب علم ہم سفر : ایک گریجوایٹ طالب علم بی۔ایس۔سی مالدار ہند و جرمن چمڑہ کا کام سیکھنے کو جا رہا ہے وہ بھی تھرڈ کلاس ڈیک پسنجر ہے۔جہاز میں داخل ہو کر اس کے حالات کے مطالعہ کے بعد کیپٹن جہاز سے مل کر اس نے ایک کمرہ دو پونڈ کرایہ پر عدن تک کے لئے حاصل کیا۔۴ پونڈ خوراک کے داخل کئے گویا نوے روپے اس نے زائد خرچ کئے۔مگر کل رات روتا ہوالرزاں وتر ساں ہمارے پاس آیا اور ایک ایک سے منت سماجت کی اور کہا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔میرے پاس روپیہ ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے وہ سیلرز (Sailors) جن کے ساتھ میں رہتا ہوں روپیہ چھین کر سمندر میں نہ ڈال دیں۔لہذا آپ لوگ مجھ پر رحم کریں اور میری مدد کریں اور اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں۔اس بے چارے کی حالت اس قدر قابل رحم تھی کہ سب کو رحم آ گیا اور یک زبان سب نے اس کی مدد کا وعدہ کیا۔اس کا سامان منگا لیا گیا اور اس کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی جہاں ایک رات گزار کر وہ بہت ہی مشکور ہوا۔کھانا تک بھی اس نے ہمارے ساتھ ہمارا پکا ہوا کھایا۔غرض خدا کے فضلوں کا بیان نہیں کیا جا سکتا جو ہم لوگوں پر حضور کی موجودگی کی وجہ سے ہور ہے ہیں۔الحمد للہ الحمد لل ثم الحمد لله الهم ز دفز و لطیفہ : ہمارے مکرم چوہدری علی محمد صاحب تین دن تک بڑی حیرت اور استعجاب سے دوستوں سے کہتے رہے کہ خدا جانے نمک یہاں کہاں سے آ گیا ہے۔جب زبان ہونٹوں پر پھیر تا ہوں نمکین مزہ ہوتا ہے۔ان کو معلوم نہ تھا کہ سمندر کا پانی نمکین اور کھاری ہوتا ہے۔صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب نے ان کو بتایا کہ سمندر کا پانی کھاری ہوتا ہے۔اس پر انہوں نے تعجب کیا اور بتایا کہ میں حیران تھا کہ کیوں ہر وقت میری زبان اور ہونٹ نمکین رہتے ہیں۔حضور کی مجلس میں اس کا ذکر آیا۔فرمایا علیمحمد پورا مولوی ہے اس کی نظر صرف عـــــذب فُرَات پر ہی رہی مِلْحٌ اُجاج یاد نہیں رہا۔مولوی میرک شاہ کی طرح جس نے پوچھا تھا کسی حاشیہ نشین سے کہ دیو بندکس ضلع میں واقع ہے۔اس طرح سے چوہدری علی محمد صاحب اب پورے مولوی