سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 356 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 356

۳۵۶ ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اپنے خدا کے پرستار ہیں۔اس تقریر کا بادشاہ پر اس قدراثر ہوا کہ اس نے مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا۔مکہ کے وفد نے درباریوں سے ساز باز کر کے پھر بھی دوسرے دن بادشاہ کے سامنے وہی سوال پیش کیا اور کہا کہ یہ لوگ حضرت مسیح کو گالیاں دیتے تھے۔بادشاہ نے پھر دوبارہ مسلمانوں کو بلایا۔انہوں نے جو اسلام کی تعلیم مسیح کے متعلق تھی بیان کی کہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کا پیارا نبی مانتے ہیں۔ہاں ہم انہیں کسی طرح بھی خدائی کے قابل نہیں جانتے کیونکہ ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ ایک ہے اور اس بات پر درباری جوش میں آگئے اور بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو سزا دے مگر بادشاہ نے کہا کہ یہی میرا عقیدہ ہے اور اس عقیدہ کی وجہ سے ان لوگوں کو ظالموں کے ہاتھوں میں نہیں دے سکتا۔پھر درباریوں سے کہا کہ مجھے تمہارے غصے کی بھی پرواہ نہیں ہے۔خدا کو بادشاہت پر ترجیح دیتا ہوں۔اہل مکہ نے رسول کریم کو اور زیادہ تکلیفیں دینی شروع کیں اور آخر آپ کے چچا سے جو چونکہ مکہ کے بڑے رئیس تھے اور ان کی وجہ سے لوگ آپ کو زیادہ دکھ دینے سے ڈرتے تھے کہا کہ آپ کسی اور رئیس کا لڑکا اپنا لڑ کا بنالیں اور محمد کو ہمارے حوالے کر دیں تاکہ ہم اس کو سزا دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ عجیب درخواست ہے۔تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لڑکوں کو لے کر اپنا مال ان کے حوالے کر دوں اور اپنے لڑکے کو تمہارے حوالے کر دوں کہ تم اسے دکھ دے کر مارو۔کیا کوئی جانور بھی ایسا کرتا ہے کہ اپنے بچے کو مارے اور دوسرے کے لڑکے کو پیار کرے۔جب اہل مکہ نا امید ہوئے تو انہوں نے درخواست کی کہ اچھا آپ اپنے بھتیجے کو یہ سمجھائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک ہونے پر اس قدر زور نہ دیا کرے اور یہ نہ کہا کرے کہ بتوں کی پرستش جائز نہیں اور جو کچھ چاہے کہے۔چنانچہ آنحضرت کو ان کے چچا نے بلا کر کہا کہ مکہ کے رؤسا ایسا کہتے ہیں کیا آپ ان کو خوش نہیں کر سکتے ؟ رسول کریم نے جواب دیا کہ آپ کے مجھ پر بہت احسان ہیں مگر آپ کے لئے اپنے خدا کو نہیں چھوڑ سکتا اگر آپ کو لوگوں کی مخالفت کا خوف ہے تو آپ مجھ سے الگ ہو جا ئیں مگر میں اس صداقت کو جو کہ مجھے خدا سے ملی ہے ضرور پیش کروں گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی قوم کو جہالت میں مبتلا دیکھوں اور خاموش بیٹھا ر ہوں۔باقی مضمون کو نمبر ۳ رجسٹر ڈ لفافہ میں ملاحظہ فرمائیں )