سفر یورپ 1924ء — Page 355
۳۵۵ خدا تعالیٰ کیوں انسان کی شکل میں یا کسی پتھر کے بت میں ظاہر نہیں ہوسکتا۔وہ ایک نہ نظر آنے والے خدا کا تخیل ناممکنات سے سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپ کو دیکھتے بنتے اور کہتے کہ دیکھو اس شخص نے سب خداؤں کو اکٹھا کر دیا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ کئی خداؤں کے ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔پس محمد عمل ہے جو کہتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے اس سے مراد ان کی یہ ہے کہ انہوں نے اب سب خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک ہی بنا دیا ہے اور اپنی اس غلط فہمی کی بے ہودگی کو آپ کی طرف منسوب کر کے خوب قہقہے لگاتے۔بعث بعد الموت کا عقیدہ بھی ان کے لئے عجیب تھا۔وہ - ہنتے اور کہتے کہ یہ شخص خیال کرتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے۔جب مسلمانوں کی تکلیفیں بہت بڑھ گئیں تو رسول کریم نے صحابہ کو اجازت دے دی کہ وہ حبشہ کو جو اس وقت بھی ایک مسیحی حکومت تھی ہجرت کر کے چلے جائیں۔چنانچہ اکثر مسلمان مرد و عورت اپنا وطن چھوڑ کر افریقہ کو چلے گئے۔مکہ والوں نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔بادشاہ کے پاس ایک وفد بھیجا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیں تا کہ ہم ان کو سزاد یں۔مسیحی بادشاہ بہت ہی منصف مزاج تھا۔جب اس کے پاس وفد پہنچا تو اس نے دوسرے فریق کا بھی بیان سنا پسند کیا اور مسلمان در بارشاہی میں بلائے گئے۔یہ واقعہ نہایت ہی دردناک ہے۔ہم قوموں کے ظلموں سے تنگ آکر اپنے وطن کو خیر باد کہنے والے مسلمان ابی سینیا کے بادشاہ کے دربار میں اس خیال سے پیش ہوتے ہیں کہ اب شاید ہم کو ہمارے وطن واپس کرایا جائے گا اور ظالم اہل مکہ اور بھی زیادہ ظلم ہم پر کریں گے۔جب وہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے پوچھا کہ تم میرے ملک میں کیوں آئے ہو؟ مسلمانوں نے جواب دیا کہ اے بادشاہ ہم پہلے جاہل تھے اور ہمیں نیکی اور بدی کا کوئی علم نہ تھا۔بتوں کو پوجتے تھے اور خدا تعالیٰ کی توحید سے ناواقف تھے۔ہر اک قسم کے برے کام کرتے تھے۔ظلم۔ڈاکہ قتل۔بدکاری ہمارے نزدیک معیوب نہ تھے۔ابھی اللہ تعالیٰ نے محمد کو مبعوث کیا۔اس نے ہمیں ایک خدا کی پرستش سکھائی اور بدیوں سے ہمیں روکا - انصاف اور عدل کا حکم دیا۔محبت کی تعلیم دی اور تقویٰ کا راستہ بتایا۔تب وہ لوگ جو ہمارے بھائی بند ہیں انہوں نے ہم پر ظلم کرنا شروع کیا اور ہم کو طرح طرح کے دکھ دینے شروع کئے۔ہم آخر تنگ آ کر اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور تیرے ملک میں آئے ہیں۔اب یہ لوگ ہمیں واپس لے جانے کے لئے یہاں بھی آگئے ہیں۔