سفر یورپ 1924ء — Page 347
۳۴۷ امر کو مد نظر رکھتے ہوئے روشنی ڈالوں گا کہ نوجوان اور بچے اس سے کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔تیرہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا کہ ۱۰ / اپریل ۵۷۱ ء کو عرب کے ملک میں بحیرہ احمر کے مشرقی کنارے کے قریب ساحل سمندر سے چالیس میل کے فاصلہ پر مکہ نامی گاؤں میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ایک معمولی بچہ اس قسم کا بچہ جس قسم کے بچے کہ دنیا میں روز پیدا ہوتے ہیں مگر مستقبل اس کے لئے اپنے اخفاء کے پردے میں بہت کچھ چھپائے ہوئے تھا۔اس بچہ کی والدہ کا نام آمنہ تھا اور باپ کا نام عبد اللہ اور دادا کا نام عبد المطلب - اس بچہ کی پیدائش اس کے گھر والوں کے دلوں میں دو متضاد جذبات پیدا کر رہی تھی۔خوشی اور غم کے جذبات خوشی اس لئے کہ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جس سے کہ ان کی نسل دنیا میں قائم رہے گی اور نام محفوظ رہے گا اور غم اس وجہ سے کہ وہ بچہ اپنی ماں کو ایک نہایت ہی محبت کرنے والے خاوند کی اور اپنے دادا کو ایک نہایت ہی اطاعت گزار بیٹے کی جو اپنے بچہ کی پیدائش سے پہلے ہی اس دنیا کو چھوڑ چکا تھا یاد دلا رہا تھا۔اس کی شکل اور شباہت اس کا سادگی سے مسکرانا اس کا حیرت سے اپنی نئی دنیا کو دیکھنا جس میں وہ بھیجا گیا تھا۔غرض اس کی ہر اک بات اس نوجوان خاوند اور بیٹے کی یاد کو تازہ کرتی تھی جو سات ماہ پہلے اپنے بوڑھے باپ اور جوان بیوی کو داغ جدائی دے کر اپنے پیدا کرنے والے سے جاملا تھا مگر خوشی غم پر غالب تھی کیونکہ اس بچہ کی پیدائش سے مرنے والے کا نام ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔دادا نے اس بچہ کا نام جو پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہو چکا تھا محمد رکھا اور اس یتیم بچے نے اپنی والدہ اور اپنے چچا کی ایک خادمہ کے دودھ پر پرورش پانی شروع کی۔مکہ کے لوگوں میں رواج تھا کہ وہ اپنے بچوں کو گاؤں کی عورتوں کو پرورش اور دودھ پلانے کے واسطے دے دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بچے کی پرورش شہر میں اچھی طرح نہیں ہوسکتی اور اس کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔مکہ کے ارد گرد کے تئیں چالیس میل کے فاصلہ کے گاؤں کے لوگ وقتاً فوقتاً شہر میں آتے اور بچوں کو لے جاتے اور جب وہ پال کر واپس لاتے تو ان کے ماں باپ پالنے والوں کو بہت کچھ انعام دیتے۔محمد کی پیدائش کے بعد جب یہ لوگ آئے تو ان کی والدہ نے بھی چاہا کہ آپ کو بھی کسی خاندان کے سپر د کر دیں مگر ہر اک عورت اس بات کو معلوم کر کے کہ آپ یتیم ہیں آپ کو لے جانے سے انکار کر دیتی کیونکہ وہ ڈرتی تھی کہ بن باپ