سفر یورپ 1924ء — Page 341
۳۴۱ ہے کیونکہ اخلاق کی درستی بھی بہت حد تک امن کی ضمانت اور اس کے قیام کی معاون ہوتی ہے۔فرمایا کہ مذہب کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے اور اخلاق کی خرابی اور نقص ہی امن عامہ کو تباہ کر دینے والا ہوا کرتا ہے۔فرمایا میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اس کا نفرنس کے اجلاس ہوں اور ضرور ہوں بلکہ اس سے بھی بڑے پیمانہ پر ہوں مگر ان میں موجودہ کا نفرنس کی طرح دریا کو کوزہ میں بند کر دینے کی خواہش نہ کرنی چاہیے بلکہ ایک خاص مضمون یا سوالات کے تقرر کے ذریعہ کا نفرنس کو زیادہ مفید بنانا چاہیے نہ یہ کہ مذہب کے تمام پہلوؤں پر صرف ایک گھنٹہ میں گفتگو کرنے پر پابند کیا جائے وغیرہ اور اس پر حضور نے تقریر ختم فرما دی کیونکہ دوسرے جلسہ میں شرکت کا وقت قریب تھا۔سر ڈینی سن راس نے اپنی جوابی تقریرہ میں عرض کیا کہ میں حضور کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہماری بڑی ہمت بڑھائی ہے۔حضور نے جو انگریزی بولی ہے وہ تو بہت اچھی انگریزی ہے اور ویسی ہی ہے جیسی کہ ہم لوگ بول سکتے ہیں۔( بعض دوستوں کا جن میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی ہیں یہ خیال ہے کہ اس نے کہا تھا کہ آپ کی انگریزی تو ہماری انگریزی سے بھی اچھی ہے ) اور کہ آپ نے جو تجویز آئندہ کا نفرنس کے متعلق فرمائی ہے بہت ہی معقول اور مفید اور بالکل نئی ہے۔اس کے مطابق آئندہ کام کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر آپ نے تو اب بھی دریا کو کوزے میں بند کر کے دکھا دیا ہے جو آپ کے مضمون سے بخوبی عیاں ہے اور کہ یہ صرف میری ہی رائے حضور کے مضمون کے متعلق نہیں بلکہ ان بہت سے لوگوں کی بھی یہی رائے ہے جنہوں نے مجھ سے حضور کے متعلق گفتگو کی ہے اور اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کا نفرنس بھی آپ کی بہت مشکور ہے کہ آپ نے اس کی ابتدائی مراحل میں بہت مدد کی اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگ اگر ہماری مدد نہ کرتے اور قادیان سے اتنی جلدی ہماری تحریک پر لبیک نہ کہی جاتی تو شاید کا نفرنس ہو ہی نہ سکتی۔اس نے کہا کہ آپ نے ہماری مالی مدد بھی ایسے وقت میں کی جب کہ ظاہری حالات میں اس روپیہ کو خطرہ میں ڈالنے یا ضائع کرنے کے مترادف تھا۔( کانفرنس کے اخراجات کے لئے چندہ جمع کیا گیا تھا۔) اور میں اس بات کو بھی اچھی طرح سے نوٹ کرتا رہا ہوں کہ آپ لوگ جو کچھ کہتے ہیں عملاً کر کے بھی دکھاتے ہیں۔چنانچہ آپ لوگوں نے جس خوبی سے تمام -