سفر یورپ 1924ء — Page 340
۳۴۰ خواہش ہے کہ آپ خود ہی کچھ اپنی زبان مبارک سے فرمائیں۔حضرت اقدس نے عذر کیا اور فرمایا کہ میں انگریزی زبان اور اس کے محاورات پر پوری طرح حاوی نہیں ہوں اور بولنے کا محاورہ بھی ابھی نہیں اس وجہ سے میں خود نہیں بول سکتا مگر انہوں نے کچھ ایسے رنگ میں اصرار کیا جس پر آخر حضرت اقدس ہی کو کچھ بولنا پڑا جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔یہ بھی عرض کر دینا ضروری ہے کہ بعض خاص خاص آدمیوں کے نام عرض کردوں تا کہ کون لوگ اور کس قسم کے آدمی اور عورتیں وہاں جمع تھے۔گو تمام کے تمام ہی اعلیٰ طبقہ کے لوگ اور تعلیم یافتہ بھی تھے مگر خاص نام یہ ہیں۔لارڈ ہیڈلے۔کرنل ڈگلس۔کرنل میئرس (وزیر ہند کے پولیٹیکل سیکرٹری) مذہبی کانفرنس کے پریذیڈنٹ۔سیکرٹریز - ممبرز - سپیکرز اور وقت بوقت پریذیڈنٹ بننے والے لوگ تمام شامل تھے۔حضرت اقدس نے انگریزی میں تقریر شروع کی۔فرمایا پرانے زمانہ میں آپ کے ملک کا قاعدہ تھا کہ جلسوں میں عموماً شراب وغیرہ پیا کرتے تھے اور بوتلیں اور پیالے اکثر ٹوٹا کرتے تھے لیکن آج یہاں چونکہ شراب نہ تھی بلکہ خالی چائے تھی اس وجہ سے نہ کوئی بوتل ٹوٹی اور نہ گلاس و پیالہ ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ چاہتے ہیں کہ بوتل اور گلاس ٹوٹے ہوئے نہیں تو کم از کم ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی سن لیں اور یوں کلام شروع فر مایا۔۔۔In place of brake bottles they want to see some broken words of English۔حضرت اقدس نے پریذیڈنٹ ، سیکرٹریز اور کمیٹی کے ممبروں کا شکر یہ ادا کیا اور فرمایا کہ ان لوگوں نے اس کا نفرنس کے انعقاد سے دنیا کے امن کو بھی مضبوط کیا ہے کیونکہ میرے نزدیک بغیر مذہب کے اخلاق قائم نہیں رہ سکتے۔لیگ آف نیشنز بھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک آپ لوگوں کی مدد اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔آپ جو مذہبی احساس پیدا کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں وہ نسل انسان کی ایک قابل قدر خدمت ہے۔مذہب کی غرض لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقین پیدا کرانا اور پھر اس کی توحید کا یقین دلا کر لوگوں میں موت اور بعد الموت حساب کتاب کا احساس پیدا کرانا ہے جس کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔پس دراصل یہ کانفرنس بھی لیگ آف نیشنز ہی کا کام کر رہی ہے۔وہ ھیکس (Thanks) دے یا نہ دے مگر یہ کام حقیقتا اسی کے کام کی بڑی بھاری مدد