سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 23 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 23

۲۳ گی اور ایک شرط ساتھ ہو گی کہ اس ڈنر کے روز میز پر شراب کی کوئی قسم بھی استعمال نہ کی جاوے۔حضور نے جو کچھ آم عملہ میں تقسیم کئے ہیں ان کا بہت بڑا اثر ہے اور وہ لوگ بہت محبت احترام اور عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بات سنتے ہیں۔ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے ایک دو ڈاکٹروں سے جو جہاز میں ملازم ہیں تعارف پیدا کیا ہے اور بڑے ڈاکٹر کو پرنس آف ویلز اور ٹیچنگ آف اسلام دی ہیں جن کو وہ پڑھنے کا وعدہ کر کے لے گیا ہے اور شکریہ ادا کرتا تھا۔اٹالین لوگ ہونے کی وجہ سے انگریزی سے نا آشنا ہیں اس وجہ سے ان کو تبلیغ میں مشکلات ہیں۔نہ وہ ہماری سمجھیں نہ ہم ان کی سمجھ سکیں۔تین آدمی اس جہاز میں چینی ہیں جو آج معلوم ہوا ( چھٹے روز ۲۰ جولائی کو ) کہ مسلمان ہیں۔دھوبی کا کام کرتے ہیں۔چھٹا دن جہاز میں چھٹا دن جہازی سفر کا یعنی ۲۰ / جولائی اتوار کا دن گویا یہ جہازی لوگوں کے لئے عید کا دن ہے۔سمندر بڑی حد تک ساکن ہے۔ہوا کم ہے۔دھوپ نکلی ہوئی ہے۔لوگ اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر ادھر ادھر پھرتے ہیں۔کپڑے جو 4 دن سے بھیگے ہوئے خشک نہ ہوئے تھے آج دھوپ میں پھیلائے گئے ہیں۔جہاز کے وہ روشندان جو لہروں اور طوفان کے پانی کی وجہ سے بند کر دیئے گئے تھے آج کھول دیئے ہیں اور آج جہاز میں ایک قسم کی چہل پہل نظر آتی ہے۔لوگوں نے کپڑے بدل دیئے ہیں اور میلے کپڑے دھوبیوں کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔4 دن سے دھو بیوں کو کہا جاتا ہے کہ کپڑے دھو د و مگر وہ کہتے تھے جب تک پہلے کپڑے خشک نہ ہوں اور کیوں کر دھوئیں۔دھوبیوں نے بھی آج جہاز کو سفید کپڑوں سے جھنڈیوں کی طرح رسیوں پر خشک ہونے کو لٹکا کر سجا دیا ہے۔چوہدری محمد شریف صاحب جو سب سے اول نمبر پر بیمار ہوئے تھے سب سے آخر اُٹھے ہیں اور حضرت کے کمرہ تک چل کر آج صبح ہی آئے ہیں۔حافظ صاحب بھی کل سے اُٹھے ہوئے ہیں۔شیخ صاحب عرفانی بھی ایک دو مرتبہ اوپر ہو گئے ہیں مگر جو اپنی جگہ سے نہیں ہلے وہ ہیں مولوی عبدالرحیم صاحب در د حضرت صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری۔حضور نے کل شام وعشاء کی نمازیں ان کے پاس پڑھائیں مگر وہ نہ اُٹھے اور نہ اُٹھ سکے۔حضور کا کمرہ انہوں نے ابھی تک دیکھا تک بھی نہیں۔العجب ثم العجب - میاں رحمد بن صاحب کو آج پھر دو تین مرتبہ ئے ہو گئی۔