سفر یورپ 1924ء — Page 324
۳۲۴ ہیں یہ طعنہ دیتے ہیں کہ تم لوگ کب معزز ہو سکتے ہو جن پر ایک چھوٹے سے جزیرہ کے لوگ حکومت کر رہے ہیں۔دنیا میں دلیلیں اس قدر گہرا اثر نہیں کرتیں جس قدر کہ طعنے اثر کرتے ہیں اور یہ طعنے بہت سے ہندوستانیوں کے دلوں میں گہرے زخم پیدا کر چکے ہیں۔مگر سب سے زیادہ ہندوستانیوں کے خیالات کو بدلنے والی پچھلی جنگ ثابت ہوئی ہے۔انگریزوں سے سب سے زیادہ ملنے کا موقع تعلیم یافتہ لوگوں کے بعد ہند وستانی سپاہی کو ملتا تھا مگر وہ ان روایات کے ماتحت جو نسلاً بعد نسل چلی آتی ہیں انگریز سپاہی کی برتری کو تسلیم کئے چلا آتا تھا اور انگریز سپاہی اس سے الگ بھی رکھا جاتا تھا اور جو نئے سپاہی آتے تھے وہ اپنے سے پہلے سپاہیوں سے مل کر عام طور پر ہندوستانی سپاہی سے الگ رہنے کے عادی ہو جاتے تھے مگر اس جنگ نے نقشہ ہی بدل دیا۔ہندوستان سے ایک وقت میں پانچ لاکھ آدمی کے قریب غیر ممالک میں رہا۔اسے پہلے فرانسیسوں میں رہنے کا موقع ملا جنہوں نے موقع کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر ان کی خوب خاطر کی۔پھر اس کی جگہ کو بدل تو دیا گیا مگر پھر بھی کثرت سے انگریز سپاہیوں کے ساتھ اسے رہنے کا موقع ملا جو انگلستان سے تازہ وہاں گئے تھے اور ہر وقت کے ساتھ رہنے اور جنگ کے خطرناک دنوں کے اثر کی وجہ سے اپنے ریز رو کو قائم نہیں رکھ سکتے تھے۔پس ہندوستانی سپاہی جو پہلے صرف اطاعت اور ادب سے واقف تھا اسے معلوم ہوا کہ میرے بھی کچھ حقوق ہیں اور ہندوستانی طریق حکومت کے علاوہ دنیا میں اور بھی طریق حکومت ہیں۔یہ لاکھوں آدمی جو ملک کے گوشہ گوشہ کے قائمقام تھے جب جنگ سے واپس گئے تو انہوں نے ان علاقوں میں بھی جہاں کہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے لوگ اس امر کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے کہ دنیا میں ایک سے زیادہ طریق حکومت بھی ہیں ان خیالات کو پھیلا دیا اور ہندوستان کی کثیر آبادی مغربی ممالک کے طریق حکومت کی باریکیوں سے واقف نہ تھی اور نہ ہے مگر اس امر کو خوب سمجھ گئی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے ملک کے لوگوں کے ذریعہ سے ملک پر حکومت کی جائے اور یہ کہ ساری دنیا کے پردے پر اسی حکومت کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔جنگ کا ایک اور بھی اثر ہوا۔اس جنگ سے پہلے عام ہندوستانی یہ خیال کرتا تھا کہ انگریزوں کے برابر اور کوئی قوم نہیں۔اس کے نزدیک سب دنیا مل کر بھی انگریزوں کو پریشان نہیں کر سکتی تھی اور وہ اس خیال پر ایسا مضبوط تھا کہ اس کے نزدیک انگریزوں سے حکومت ہند کا مطالبہ