سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 321 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 321

۳۲۱ نسبت بھی کہا جاتا تھا کہ وہ بھی سرکاری زبان ہونے کی امیدواری کی خواہش رکھتی ہے۔یہ تمام اختلافات مل کر ہندوستان کی طاقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر افسوس کہ ان اختلافات کو مٹانے کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ان کو بڑھایا جاتا ہے۔رواداری بالکل نہیں ہے۔مختلف مذہب تو الگ رہے خود ایک مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والوں میں ایک دوسرے سے انصاف کی امید نہیں ہوتی۔ابھی ایک احمدی مشنری کو افغانستان میں صرف مذہبی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کیا گیا ہے۔مجھے پرسوں ہی گورنمنٹ آف انڈیا کی تاریلی ہے جس میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ خالص مذہبی مخالفت کی وجہ سے مارا گیا ہے وہ تاریہ ہے۔"Your talegram to H۔E the Viceroy۔Copy of the telegram sent to the Times from India has only just been secured۔It is not based on official report and Govt۔of India had not previously seen the story of the ambush۔They have issued no statement to the press, but understand from Afgan newspapers that death sentense was awarded purely on religious grounds۔" مگر انسانی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی کالج دیو بند کے پروفیسروں نے جلسہ کر کے امیر افغانستان کو تار دیا ہے کہ اس نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے اور اس سے امید کی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح کرے گا۔ان اختلافات کی وجہ سے قومی فوائد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔مثلاً سود کا لین دین قریباً سب کا سب ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔اس کا بہت بڑا اثر غربا پر پڑتا ہے جو مسلمان ہیں۔گورنمنٹ بھی چاہتی ہے کہ کچھ اس کا تدارک ہو۔مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ یہ مصیبت ان کے گلے سے اُترے۔لیکن ہند و زمیندار بھی جو خود اس بلا کے پنجہ میں پھنسے ہوئے ہیں ہر ایک اس کوشش کا مقابلہ کرتے ہیں جو سود کو محدود کرنے کے لئے ہو۔اس لئے کہ اس کا زیادہ فائدہ مسلمانوں کو پہنچتا ہے۔اس وقت سود کا ایسا خطر ناک بوجھ جو غر با پر ہے کہ بعض دفعہ سور و پیہ لے کر لوگوں کو چار پانچ ہزار دینا پڑا ہے۔گورنمنٹ نے کو آپریٹو بنکوں کا سلسلہ شروع کیا ہے مگر اس کا زیادہ فائدہ پنجاب کے بعض علاقوں کو پہنچا ہے۔یوپی ، بہار وغیرہ کے علاقوں میں اب تک اس بلا